Sunday, 19 August, 2007, 00:28 GMT 05:28 PST
عراقی رہنماؤں نے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ اس سیاسی بحران کو ختم کرنے کی کوئی صورت نکالی جا سکے جو کابینہ کے تقریباً آدھے اراکین کے علیحدہ ہو جانے سے پیدا ہو گیا ہے۔
عراق کی شیعہ اکثریت کے رہنماؤں نے دو ہفتے قبل پہلی مرتبہ سنی اور کرد برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد عراقی صدر کے ایک مشیر نے کہا کہ ایک خاص مسئلے پر کچھ بات آگے بڑھی ہے اور وہ ہے صدام حسین کی بعث پارٹی کے سابق اراکین پر حکومت میں کام کرنے کے لیے جو پابندیاں ہیں ان میں نرمی لانے کے سوال پر۔
عراقی وزیر اعظم نور المالکی پر امریکی صدر بُش کی طرف سے شدید دباؤ پڑ رہا ہے کہ وہ سیاسی جمود کو ختم کریں۔
شیعوں کی سب سے بڑی پارٹیوں اور کرد گروپوں نے حال ہی میں ایک نیا اتحاد قائم کیا ہے لیکن سُنی دھڑوں نے اس اتحاد میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔