Thursday, 16 August, 2007, 18:04 GMT 23:04 PST
عراق کے شمالی شہر موصل کے قریب دیہاتوں میں منگل کی شام ہونے والے دھماکوں میں چار سو ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ حملے وہاں کی یزیدی برادری پر کیے گئے تھے۔
عراق کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کم سے کم 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں، لیکن پولیس اور وزارت صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں 250 سے کچھ زائد ہیں۔
اس سے قبل صوبے کے گورنر نے کہا ہے کہ لگ بھگ 200 افراد ملبوں میں دبے ہوسکتے ہیں۔ منگل کی شام دو یزیدی دیہاتوں قہطانیہ اور عدنانیہ پر ہونے والے حملے گزشتہ چار برسوں کے دوران ہونے والے سب سے خونریز ثابت ہوئے ہیں۔
عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور عراقی صدر جلال طالبانی نے یزیدی برادری پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
طل افار صوبے کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 250 ہلاکتوں اور 350 زخمیوں کی تعداد میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ منگل کی شام دو دیہاتوں میں چار حملے کیے گئے تھے۔
قریبی شہر سنجال کے میئر نے بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ دخیل قاسم نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ہم ابھی بھی اپنے ہاتھوں اور بیلچوں سے ملبے کھود رہے ہیں۔‘
کردستان کی علاقائی حکومت کے ترجمان نے بتایا ہے کہ یزیدی برادری اسلام سے بھی قدیم قوم ہے اور یہ خدشہ رہا ہے کہ اس کا وجود ختم ہو رہا ہے۔