Wednesday, 15 August, 2007, 10:42 GMT 15:42 PST
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک قافلے پر بم حملے کے نتیجے میں جرمنی کے تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
جرمنی کی وزارتِ دفاع نے ان شبہات کی تردید کی ہے کہ کابل میں ہلاک ہونے والے تینوں شہری افغانستان میں موجود جرمن فوج کے اہلکار تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں افراد پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ تھے یا ان کا تعلق جرمن سفارتخانے کی حفاظت کے لیے کابل میں موجود فیڈرل پولیس کے دستے سے تھا۔
دھماکے کے لیے استعمال ہونے والا بم اسی ساخت کا تھا جو افغانستان میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
جرمن قافلے پر بم حملہ اس وقت ہوا جب وہ کابل سے دس کلومیٹر باہر جلال آباد روڈ سے گزر رہا تھا۔
کابل پولیس میں شعبۂ تفتیش کے سربراہ علی شاہ پاکتیاوال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس بم حملے میں تین افراد ہلاک اور ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ کابل میں جرمن سفارتخانے نے فی الوقت اس بم حملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
نیٹو فوج نے بم دھماکے کی تصدیق تو کی ہے تاہم اس میں مرنے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
طالبان نے حال ہی میں کابل میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ گزشتہ ماہ طالبان نے وردک صوبے سے دو جرمن شہریوں کو اغواء کر لیا تھا۔ مغویوں میں سے ایک کی لاش اکیس جولائی کو مل گئی تھی تاہم دوسرے مغوی کے بارے میں یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور طالبان کی تحویل میں ہے۔
افغانستان میں جرمنی کے تقریباً 3000 فوجی تعینات ہیں۔