Tuesday, 14 August, 2007, 09:35 GMT 14:35 PST
شمالی کوریا میں شدید بارشوں کے باعث سینکڑوں افراد ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔
سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق ہزارہا ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئی ہیں اور سیلاب سے کم سے کم تیس ہزار مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
ملک کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے کانگوان میں بیس ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
گزشتہ برس اگست میں بھی شمالی کوریا میں سیلاب سے تباہی ہوئی تھی۔
کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں لوگ بارشوں اور سیلاب میں ہلاک ہو گئے ہیں تاہم ابھی تک ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔
پڑوسی جنوبی کوریا اور خوراک کے عالمی پروگرام نے شمالی کوریا کو امداد بھیجی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سات اگست سے جاری بارش سے ’شدید انسانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔‘
ملک بھر سے جمع کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ’ شدید بارشوں سے سینکڑوں لوگ ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں اور تیس ہزار مکانات تباہ ہو گئے ہیں جس سے تریسٹھ ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں۔‘
اس کے علاوہ آٹھ سو سرکاری عمارتیں، پانچ سو چالیس پُل اور کئی مقامات پر ریل کی پٹڑیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ’ اس نہ تھمنے والی بارش نے ملک کی مرکزی ریل کی پٹڑیوں، سڑکوں اور پلوں کے علاوہ بجلی کے نظام کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔‘
زیادہ سے زیادہ زمین کو زیر کاشت لا کر خوراک کی پیداوار میں اضافے کی غرض سے کسانوں نے پہاڑیوں اور جنگلات کو ختم کر دیا ہے جس سے زمین کے کٹاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
شمالی کوریا اپنی آبادی کے لیے خوراک پیدا نہیں کر پا رہا ہے اور اسے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مہیا کی جانے والی خوراک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ انیس سو نوے کی دہائی میں پڑنے والے قحط سے وہاں تقریباً بیس لاکھ لوگ مر گئے تھے۔