Tuesday, 14 August, 2007, 02:40 GMT 07:40 PST
بھارت نے اسرائیل کو پیشکش کی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر ایک ایسے نئے پائلٹ کے بغیر پرواز کرنے والے لڑاکا ہیلی کاپٹر کی تیاری میں شامل ہو جس کی مدد سے چینی ساخت کے سی آٹھ سو دو میزائیلوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔
ایک اسرائیلی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے چین سے یہ میزائیل حاصل کرلئے ہیں اور یہ کہ اسرائیل کو گزشتہ سال لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ میں اِسی میزائیل کی وجہ سے خاصہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
اگر دونوں ملک اس کی مشترکہ تیاری پر رضامند ہو جاتے ہیں تو دونوں ملکوں کے پاس بغیر پائلٹ کا یا پہلا فضائی ہتھیار ہوگا۔
اسرائیل پر لبنان پر حملے کے دوران حزب اللہ نے اسرائیل کی بحری فوج کے خلاف چینی میزائل استعمال کرتے ہوئے اس کا ایک بحری جہاز ڈبو دیا تھا۔ اس سے مغربی ممالک میں بھی خدشات نے جنم لیا تھا۔
چین میں تیار ہونے والے سی آٹھ سو دو میزائل تکنکی اعتبار سے بہت کارآمد میزائل ہیں اور دفاعی ماہرین کے مطابق جنگ میں ان کا توڑ کرنا آسان نہیں۔
اسرائیل نے ان میزائلوں کی وجہ سے لبنان کی سمندری حدود سے اپنے جہاز کو دور ہٹالیا ہے جس کی وجہ سے اس کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت کو شدید دھچکا لگا ہے۔
پاکستان، ایران، شام اور حزب اللہ کے پاس یہ چینی ساخت میزائل موجود ہیں۔
![]() | |
| چینی میزائل آٹھ کلو میٹر دور تک مار کر سکتے ہیں |
ساحل سے سمندر میں مار کرنے والے یہ میزائل بہتری ’نیویگیشن اور جامنگ‘ صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان بغیر پائلٹوں کے ہیلی کاپٹروں کی مشترکہ طور پر تیاری کی تجویز بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتا کی طرف سے اپنے ہم اسرائیلی ہم منصب ایڈمرل ڈیوڈ بن بشات کے بھارت کے دورے کے دوران دی۔
ایڈمرل مہتا کے مطابق بھارتی بحریہ ایسے چالیس سے پچاس ہیلی کاپٹر استعمال کر سکتا ہے۔