http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 14 August, 2007, 22:12 GMT 03:12 PST

عراق خود کش دھماکے ایک سو پچہتر ہلاک

عراق میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی عراق میں چار خود کش کار بم حملوں میں ایک سو پچہتر افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

موصل کے قریب ہونے والے ان خود کش حملوں کا بظاہر نشانہ کردستان سے تعلق رکھنے والے یزیدی فرقے کے لوگ تھے۔ اس فرقے سےتعلق رکھنے والے لوگوں کی آبادی میں کم از کم چار بم دھماکے ہوئے۔

موصل میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دھماکوں میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

یزدی فرقے کے لوگوں اور مقامی مسلمانوں میں گزشتہ کئی مہیبنوں سے شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ مسلمانوں اور یزیدی فرقے کے لوگوں میں کشدیگی اس وقت شروع ہوئی تھی جب یزیدی فرقے کی ایک لڑکی کو اسلام قبول کرنے پر اس کے فرقے کے لوگوں نے سنگسار کر دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موصل کے قریب ایک حملے میں آئل ٹینکر کا استعمال کیا گیا۔

ان دھماکوں میں دو سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کی وجہ سے بہت سی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

دریں اثناء بغداد کے مغرب میں فلوجہ کے قریب ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے سے پانچ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کے اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ شنوک ہیلی کاپٹر مرمت کے بعد تجرباتی پرواز پر تھا جب اس کو یہ حادثہ پیش آیا۔

اس سے قبل امریکی فوج نے نینوا اور بغداد میں پیش آنے والے تشدد کے مختلف واقعات میں چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق بغداد میں ایک پل پر خودکش کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اس دھماکے کی وجہ سے کئی گاڑیاں پل سے دریا میں جا گریں۔

تشدد کے ایک اور واقعہ میں پچاس مزاحمت کار جو وردیوں میں ملبوس تھے تیل کے نائب وزیر سمیت کئی حکام کو اغواء کرکے لے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بغداد میں سترہ گاڑیوں پر سوار مزاحمت کاروں نے تیل کی وزارت پر دھاوا بول دیا۔