Tuesday, 14 August, 2007, 10:07 GMT 15:07 PST
فلسطین میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک فلسطینی بینک نے حماس کی سکیورٹی فورس کے تین ہزار اراکین کو غلطی کے نتیجے میں تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔
فلسطین اسلامی بینک کی غزہ برانچ کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا فلسطینی حکام کی ہدایات کے بعد کیا ہے۔ شدت پسند تنظیم حماس کے ایک ترجمان نے بینک کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
گزشتہ سال جون میں شدت پسند تنظیم کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حماس اور اس کی حریف محمود عباس کی الفتح پارٹی کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پیر کو فلسطین اسلامی بینک نے حماس کی ایگزیکٹو فورس کے کم از کم تین ہزار چار سو اراکین کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے حماس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ بینک کے اس عمل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ حماس نے بینک کے منیجر سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں حراست میں لے لیا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں حماس کے تین ہزار اراکین کو غلطی سے تنخواہوں کی ادائیگی کی گئی تھی بعدازاں بینک کی یہ غلطی سامنے آئی۔
فتح حکام نے بتایا کہ غلطی کی نشاندہی کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی فوری طور پر روک دی گئی اور بہت سے ادائیگیوں کو واپس لے لیا گیا تاہم اطلاعات کے مطابق اس دوران حماس کے سینکڑوں اراکین اپنی تنخواہوں کے چیک کیش کروا چکے تھے۔