Sunday, 12 August, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
عمر آفریدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کابل
پاکستان اور افغانستان کے درمیان چار روزہ امن جرگے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو خطرہ ہے۔
کابل جرگے نے اعلامیے کی بنیادی سفارشات میں دہشت گردی کو دونوں ممالک کا مشترکہ خطرہ قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دونوں ملکوں کی قومی اور سکیورٹی پالیسیوں کے اہم حصے طور پر جاری رہنی چاہیے۔
اعلامیے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں حکومتیں اور وہاں کے لوگ اپنے ملکوں میں دہشت گردوں کو پناہ یا تربیت کی اجازت نہیں دیں گے۔
جرگے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے طالبان سے نمٹنے کے لیے دونوں ملکوں کی طرف سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی عدم اعتماد کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شک میں مبتلا نہ ہو کہ پاکستان ان کے ملک میں خرابی چاہتا ہے۔
پاکستان کے صدر نے کہا کہ ’غلط فہمیاں پیدا کرنے میں بعض دفعہ بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے‘۔
انہوں نے پاک افغان بہتر تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یقین دلاتا ہوں کہ جو باتیں میری زبان سے نکلیں گی وہی میرے دل و دماغ میں بھی ہیں۔ پاکستان افغانستان کا دوست بن کر رہنا چاہتا ہے اور افغانستان کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ کرنا ہو گا ورنہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پائے گا‘۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ افغان طالبان کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حمایت حاصل ہے لیکن انہوں نے اس کی بنیادی وجہ اسّی کی دہائی میں افغانستان اور روس کی جنگ کو قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا: ’اس سلسلے میں دونوں ملکوں کو مل کر مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن طاقت کا بے جا استعمال مسئلے کی شدت میں مزید اضافہ کرے گا اس لیے ہمیں دانشمندی اور مستقل مزاجی سے کام لینا ہو گا‘۔
صدر مسشرف کا کہنا تھا کہ ’خطے کی ترقی اس بات میں مضمر ہے کہ ہم اپنے خطے کو دنیا کے لیے کھول دیں۔ پاکستان افغانستان کو بندرگاہیں دے گا اور دنیا کے لیے راستہ دے گا‘۔
افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے اختتامی خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف سمیت جرگے کے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ جرگہ خطے میں امن کی قیام کی طرف سنگِ میل ثابت ہو گا۔
اتوار کو پاک افغان جرگے نے مشترکہ اعلامیے میں ایک چھوٹا جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو پچاس ارکان پر مشتمل ہو گا اور اس میں دونوں ممالک سے پچیس پچیس ارکان شامل ہوں گے۔
مشترکہ امن جرگہ دونوں ملکوں کے درمیان بردرانہ تعلقات، باہمی احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور معاشی، ثقافتی اور سماجی تعلقات کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گا۔
مشترکہ امن جرگہ دونوں ملکوں میں منشیات کی پیداوار اور سمگلنگ کی روک تھام کرے گا اور عالمی برادری پر زور دے گا کہ وہ افغانستان میں روزگار کے متبادل ذرائع فراہم کرنے میں مدد دے۔
افغانستان اور پاکستان عالمی برادری کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ڈھانچہ اور منصوبے تیار کریں گے۔
مشترکہ امن جرگے کی تمام سفارشات اس اعلامیے کا حصہ ہیں۔