Saturday, 11 August, 2007, 17:12 GMT 22:12 PST
افغانستان میں تین ہفتے قبل اغواء کیے جانے والے بیس سے زیادہ جنوبی کوریا کے باشندوں میں سے طالبان نے دو خواتین کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان کے مشرقی صوبے غزنی میں دو روز سے طالبان کے نمائندوں اور جنوبی کوریا کے سرکاری وفد کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد دو خواتین کی رہائی کا اعلان خیر سگالی کے اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔
تاہم افغان حکومت نے دو خواتین کی رہائی کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
طالبان کوریا کے مغوی باشندوں کی بازیابی کے عوض کابل حکومت کی قید میں اپنے چند ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے عیسائی امدادی کارکنوں کو گزشتہ ماہ اغواء کر لیا گیا تھا۔
قبل ازیں افغان حکومت نے دو طالبان رہنماؤں کی حفاطت کی یقین دہانی کرائی تھی تاکہ وہ جنوبی کوریا کے وفد سے ملاقات کے لیے آ سکیں۔
طالبان کے نمائندے ملا قاری بشیر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ’ہم مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں۔‘
ملا بشیر نے کہا کہ طالبان کابل حکومت کی قید میں اپنے ساتھیوں کے بارے میں اسی طرح کے جذبات رکھتے ہیں جس طرح جنوبی کوریا کے حکام اور عوام اپنے اغواء شدہ باشندوں کے بارے میں محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے قبضے میں جنوبی کوریا کے تمام باشندے خیریت سے ہیں۔
طالبان نے انیس جولائی کو کابل سے قندھار کے راستے پر جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی ایک عیسائی امدادی تنظیم کے تیئس کارکنوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں سے گروپ کے سربراہ اور ایک اور مغوی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
افغان حکومت نے جسے ماضی میں بھی طالبان سے اغواء شدہ شہریوں کی رہائی کے عوض ان کے مطالبات تسلیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اب کوریا کے باشندوں کی بازیابی کے لیے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اغواء شدہ جنوبی کوریا کے باشندوں کو مختلف گروپوں میں غزنی شہر سے کئی میل دور کسی گاؤں میں رکھا گیا ہے۔