Friday, 10 August, 2007, 03:52 GMT 08:52 PST
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی سرحدوں پر اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے معاشی بحران کے باعث آنے والے دنوں میں غزہ کا تمام تر انحصار امداد پر ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں قائم گارمنٹس کی 600 فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں کیونکہ وہ خام مال درآمد نہیں کر سکتیں۔ تعمیرات کی صنعت سے وابستہ نوے فیصد سے زائد فیکٹریوں میں کام بند ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مزدوروں کی بڑی تعداد بے روزگار ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے ایک سینئر اہلکار نے غزہ میں داخلے کے تمام اہم سرحدی راستے کھولنے کو کہا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر
پابندیوں میں نرمی نہیں کی گئی تو غزہ کا قریب قریب سو فیصدی انحصار بیرونی امداد پر ہو سکتا ہے۔
ایجنسی کے ڈپٹی کمشنر جنرل فلیپو گرینڈی نے ایک بیان میں کہا ہے:’ میں فلسطین کی انتظامیہ، اسرائیل اور دوسری تمام پارٹیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ در آمدات اور برآمدت کے لیے ’کارنی کراسنگ‘ کو کھولنے کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائیں‘۔
فلسطین کی شدت پسند تنظیم حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کے تمام سرحدی راستوں کو بند کردیا ہے یا ان پر روکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطہ ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ حماس اسرائیل کے بطور ایک یہودی ریاست خاتمہ کی بات کرتی ہے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پابندیاں سکیورٹی کی وجوہات کی بناء پر لگائی گئی ہیں۔
غزہ کے جنوب میں رفح بارڈر کراسنگ فلسطینی اتھارٹی میں داخلے اور نکلنے کا وہ واحد زمینی راستہ ہے جو اسرائیل سے ہو کر نہیں گزرتا تاہم جب بھی اس راستے کو آمد ورفت کے لیے کھولا جاتا ہے تو اس دوران اسرائیلی حکام برقی نظام کی مدد سے ٹریفک کی نگرانی کرتے ہیں۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں غزہ سیاسی اور معاشی اعتبار سے جیسے محبوس ہو کر رہ گیا ہے جس کا تقریباً تمام تر انحصار بیرونی امداد پر ہے اور عملی طور پر ہر شخص اس وقت اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کردہ امدادی سامان پر ہی انحصار کر رہا ہے۔