http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 10 August, 2007, 13:52 GMT 18:52 PST

عراق: اقوام متحدہ کی نئی قرارداد

عراق میں اقوام متحدہ کے وسیع کردار کے لیے سلامتی کونسل نے امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے ایک نئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

اس قرارداد پر عملدرآمد سے عراق میں اقوام متحدہ کا موجودہ کردار نہ صرف ایک سال کے لیے بڑھ جائے گا بلکہ عالمی ادارے کے سفیر سیاسی، معاشی، انتخابی اور آئینی معاملات میں بھی عراقی حکومت کی معاونت کر سکیں گے۔

سال دو ہزار تین میں بغداد میں اپنے ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے بیشتر افراد کو عراق سے نکال لیا تھا۔ اس بم دھماکے میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار ویئرہ ڈی میلو ہلاک ہوگئے تھے۔

سٹاف کونسل کا خیال ہے کہ عراق میں امریکی قیادت میں مصروف عمل افواج اقوام متحدہ کے عملے کو مطلوبہ تحفظ فراہم نہیں کرینگی۔ نئی قرارداد کے تحت عراق میں اقوام متحدہ کے عملے کی تعداد پینسٹھ سے بڑھا کر پچانوے کر دی جائے گی۔

تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر اقوام متحدہ کا کردار محدود ہی رہے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیلزاد کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ متحارب عراقی دھڑوں میں بات چیت کرانے میں مددگار ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان گروہوں سے جنہوں نے امریکہ سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بعض مبصروں کا خیال ہے کہ اقوام متحدہ کے وسیع کردار سے بش انتظامیہ عراق میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔