Thursday, 09 August, 2007, 15:48 GMT 20:48 PST
ایران کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کا دارومدار وہاں سے امریکی افواج کے انخلاء اور عراق کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کے خاتمے پر ہے۔
تہران میں عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ایرانی حکام کی بات چیت کے دوسرے دن پرویز داؤدی کا کہنا تھا کہ ایران عراق کو ایک محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور وہ اس حوالے سے ہر ممکن کوششیں بھی کر رہا ہے۔
ایرانی نائب صدر کا کہنا تھا کہ’عراق میں قیامِ امن کا دارومدار قابضین کی واپسی، عراق کے معاملات میں ان کی عدم مداخلت اور جناب مالکی کی حکومت کی حاکمیت پر ہے‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ہم عراق کی سکیورٹی کو اپنی اور خطے کی سکیورٹی تصور کرتے ہیں‘۔
امریکی کمانڈر ایران پر عراقی مزاحمت کاروں کی تربیت اور انہیں ہتھیاروں کی فراہمی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں جنہیں ایرانی حکام ابتداء سے ہی مسترد کرتے آئے ہیں۔
تہران میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ایران اور عراق کے باہمی تعلقات میں تیزی سے بہتری آئی ہے اور عراقی وزیراعظم کا بھی حالیہ دورے پر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا ہے۔
ادھر عراقی وزیراعظم نے بدھ کی شام ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ملاقات کے بعد نوری المالکی نے عراق کے حوالے سے ایرانی کے مثبت اور تعمیری رویے اور بقول ان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سکیورٹی کے حوالے سے ایرانی کوششوں کی تعریف کی۔