http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 04 August, 2007, 03:04 GMT 08:04 PST

عراقی شہری کے قتل پر15 برس قید

ایک امریکی فوجی کو شدت پسندوں کی تلاشی کے آپریشن کے دوران ایک عراقی شہری کے قتل کے جرم میں پندرہ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سارجنٹ لارنس ہچنز کو ملازمت سے برخاست بھی کر دیا گیا ہے۔

انہیں جمعرات کو فوجی عدالت نے قتل کی سازش اور غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔

لارنس ہچنز اس یونٹ کے سربراہ تھے جس نےگزشتہ برس حمدانیہ میں تلاشی کے عمل کے دوران ایک باون سالہ عراقی ہاشم ابراہیم عواد کو قتل کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق سارجنٹ ہچنز کی قیادت میں کام کرنے والی اس یونٹ نے ان کے ہمسائے کے رہائشی مشتبہ شدت پسند کی تلاش میں ناکامی کے بعد ہاشم عواد کو ان کےگھر سے اغواء کیا اور پھر ایک گڑھے کے پاس لے جا کر دس مرتبہ ان کے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

استغاثہ کے مطابق ہاشم عواد کو ہلاک کرنے کے بعد سارجنٹ ہچنز نے ان کی لاش کے پاس ایک بندوق اور ایک پھاؤڑا رکھ دیا تاکہ انہیں ایک ایسا شدت پسند ثابت کیا جا سکے جو سڑک کے کنارے بم نصب کرنا چاہتا تھا۔

لارنس ہچنز کی یونٹ کے ایک اور ممبر مارشل میگنکالڈا کو بھی فوجی عدالت نے قتل کی سازش کا مجرم قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برخاست کر دیا تاہم انہیں پہلے ہی چار سو اڑتالیس دن قید کاٹنے کی وجہ سے رہا کر دیا گیا۔

مارشل میگنکالڈا پر عدالت میں غیرارادی قتل کا الزام ثابت نہیں ہو سکا لیکن انہیں چوری اور ڈاکہ زنی کا مجرم قرار دیا گیا۔اس یونٹ کے پانچ ممبران کو پہلے ہی ایک سے آٹھ برس کے درمیان قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔