http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 03 August, 2007, 21:39 GMT 02:39 PST

سرکوزی ڈیل انکوائری کےحامی

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا اور فرانس کی اسلحہ ڈیل اور بلغارین طبی عملے کی رہائی کے باہمی تعلق کے حوالے سے انکوائری کی حمایت کرتے ہیں۔

لیبیا نے فرانس سے چار سو پانچ ملین ڈالر کے عوض ٹینک شکن میزائل اور مواصلاتی آلات خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اور یہ لیبیا کا 2004 میں پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ہتھیاروں کا پہلا سودا ہے۔

لیبیا اور فرانس کی اسلحہ ڈیل

تاہم یہ سودا لیبیا کی جانب سے لیبیائی بچوں کو دانستہ طور پر ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کی ملزم چھ بلغارین نرسوں اور ایک فلسطینی نژاد بلغارین ڈاکٹر کی رہائی کے ایک ہفتے بعد عمل میں آیا ہے۔

فرانسیسی حکام ان دونوں واقعات کے باہمی تعلق کی تردید کر رہے ہیں جبکہ لیبیائی رہنما معمر قذافی کے بیٹے کا کہنا ہے کہ بلغارین باشندوں کی رہائی نے ہی اس سودے کی راہ ہموار کی۔ اس پر فرانس کی اپوزیشن جماعت سوشلسٹ پارٹی نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’صدرِ جمہوریہ لیبیا اور فرانس کے تعلقات میں حالیہ پیشرفت کے حوالے سے پارلیمانی انکوائری کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس انکوائری سے ڈیل کے حوالے سے فرانسیسی حکام کے بیانات کی تصدیق بھی ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ جمعہ کو ہی فرانسیسی وزیرِ دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لیبیا سے اسلحے کے سودے کی بات چیت کئی ماہ سے جاری تھی۔

وزیرِ دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیا کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد فرانس اس سے بات چیت کرنے والا واحد ملک نہیں بلکہ’ روس، برطانیہ اور اٹلی سمیت متعدد ممالک لیبیا سے رابطے میں ہیں‘۔

یاد رہے کہ بلغارین طبی عملے کی رہائی کے اگلے دن فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے لیبیائی رہنما معمر قذافی سے طرابلس میں ملاقات کی تھی اور سکیورٹی، صحت اور امیگریشن جیسے معاملات کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے۔ تاہم فرانسیسی صدر کے دفتر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس دوران ہتھیاروں کے سودے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔