Thursday, 02 August, 2007, 00:34 GMT 05:34 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہاہے کہ مشرقِ وسطی میں قیامِ امن کے لیے موقع کے استعمال کا وقت آگیا ہے۔
یروشلم میں اسرائیل کی اپنی ہم منصب زپّی لیونی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ضروری ہے کہ ’محتاط انداز‘ میں کارروائی کی جائے۔اور موقع کا صحیح استعمال کرتے ہوئے پوری تیاری کے ساتھ پیش رفت کی جائے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ زپّی لیونی نے کہا اسرائیل فلسطینی حکومت اور صدر محمود عباس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل ابھی بھی یروشلم کی حیثیت ، فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی اور کسی بھی فلسطینی ریاست کے ساتھ مستقبل کی سرحدوں کے مسئلے پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت میں کئی مرتبہ سب سے زیادہ حساس مسائل پر پہلے بات کرنا سمجھداری نہیں ہوتی۔
اسرائیل کے اپنے دورے کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور صدر شمعون پیریز سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ سے اپیل کی کہ ’حماس کو مذاکرات کے ہر دور سے دُور رکھا جائے‘۔
غربِ اردن میں کونڈالیزا رائس فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور وزیر اعظم سلام فیاض سے بھی ملاقات کریں گی۔
جون میں حماس کی جانب سے غزہ پر قبضہ ہونے کے بعد سے امریکہ اور عرب لیگ نے محمود عباس کی ہنگامی حکومت کی حمایت کر کے حماس کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔
محترمہ رائس نے اسرائیل سے پہلے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا ہے جہاں سعودی وزیر خارجہ نےاس سال امن مذاکرات کے امریکی منصوبے کی حمایت کی اور کہا کہ سعودی عرب بھی ان مذاکرات میں شریک ہوناچاہے گا۔