Sunday, 29 July, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
اطلاعات کے مطابق امریکہ اگلے دس سال میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کو اسلحے کی فروخت کے بیس ارب ڈالر کی مالیت کے سودے کی تیاریاں کر رہا ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ نے محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سودے میں جدید ہتھیار، میزائل گائیڈنس سسٹمز، جدید لڑاکا طیارے اور بحری جہاز شامل ہیں۔ اس سودے کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے تیزی سے سر اٹھاتے خطرے کے تدارک کی ایک کوشش ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع اور خارجہ کے حکام اگلے ہفتے خلیج کے دورے کے دوران اس سودے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ تاہم ابھی اس سودے کی جزیات کو حتمی شکل دی جار ہی ہے۔ کانگریس میں اسلحہ کی فروخت کے اس سودے پر بحث شروع ہو گئی ہے تاہم امریکی حکام کے خلیج کے دورے کے دوران اس بارے میں کسی قسم کے اعلانات کی توقع نہیں ہے۔
سنیچر کو امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ نے ایک سینئر امریکی افسر کا نام ظاہر کیے بغیر بتایاکہ بش انتظامیہ خلیج میں امریکی اتحادی ممالک سے اسلحے کی فروخت کے اس مجوزہ پیکج کی تیاریوں میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ اس مجوزہ سودے میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، جدید اور حساس گائیڈ میزائل، سعودی لڑاکا طیاروں کو اپ گریڈ کرنا اور نئے بحری جہاز شامل ہیں۔ اس سودے کے تحت پہلی بار سعوری عرب کو سیٹلائیٹ گائیڈ میزائل بھی مل سکتے ہیں۔
![]() | |
| مجوزہ سودے کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے تیزی سے سر اٹھاتے خطرے کے تدارک کی ایک کوشش ہے |
وائٹ ہاؤس اس بات پر تشویش میں مبتلا ہے کہ کانگریس میں سعودی عرب کے مخالفین اس سودے کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے۔ کانگریس کے یہ اراکین عراق میں سعودی عرب کے بڑھتے اثر کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس ڈیل کے تحت خلیج میں امریکہ کے دوسرے اتحادی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات کو بھی آلات اور
اسلحہ مل سکتا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ سودا سنی عرب ریاستوں کی افواج کو مزید سہارا دینے کی اس دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے کا تدارک کرنا ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے سینئر افسر نے جمعہ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اس خطے کی سنی عرب ریاستوں کا کام عراقی حکومت میں شامل اعتدال پسند کو یہ مثبت اور موثر پیغام دینا ہے کہ ان کے پڑوسی ان کے ساتھ ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اگلے ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران اس مجوزہ سودے کے بارے میں بات کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر گیٹس سعودی حکومت کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائیں گے کہ عراق کی صورت حال سے قطع نظر امریکہ خطے میں اپنی پالیسی پر کاربند رہے گا۔