Sunday, 29 July, 2007, 08:34 GMT 13:34 PST
حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ لڑائی نے ’ نئے مشرقِ وسطٰی‘ کے امریکہ کے تصور کو ناکام کر دیا ہے۔
ٹیلی وثرن پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا اسرائیل اور امریکہ وزیراعظم فواد سنیورا کی بالادستی پورے لبنان تک پھیلانا چاہتے تھے تاہم وہ اس میں ناکام رہے۔
شمالی شہر بنتِ جبیل میں حزب اللہ کے پانچ ہزار حامیوں سے ٹیلی وثرن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ حزب اللہ کے پاس ابھی بھی راکٹ ہیں اور اگرحزب اللہ پر حملہ کیا تو وہ بھی اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا اس جنگ کا مقصد ایک نئے مشرق وسطٰی کو مسلط کرنا تھا ایک ایسا مشرقِ وسطٰی جو چھوٹی چھوٹی نسلی ریاستوں پر مشتمل ہو اور جو امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میںکام کریں۔
گزشتہ موسمِ گرما کے دوران چونتیس دن کی لڑائی میں ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے۔حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے دو فوجیوں کو اغوا کیے جانے کے بعد اسرائیل نے حملے شروع کر دیے تھےاور اقوامِ متحدہ کی ثالثی کے بعد چودہ اگست کو جنگ بندی کے بعد حزب اللہ نے ’تاریخی جیت ‘ کا دعوٰی کیا تھا۔
حزب اللہ اور شام حامی حزبِ اختلاف کے وزیراعظم سنیورہ کے حامیوں سےاختلافات کی بناء پرگزشتہ نومبر سے سیاسی تعطل پایا جاتا ہے جب حزب اللہ فواد سنیورا کی حکومت سے علیحدہ ہو گئی تھی۔
قبل ازیں فرانس کے وزیر خارجہ برنارڈ کوشنر نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ تعطل برقرار رہا تو لبنان خانہ جنگی کی سمت چلا جائے گا۔شیخ نصراللہ نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ آج یہ مزاحمت زیادہ مضبوط اور زیادہ طاقتور اور زیادہ پر عزم ہے۔اگر حزب اللہ پر حملہ ہوا تو ہم اپنا اور اپنے ملک کا دفاع خود کریں گے‘۔
شیخ نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے فوجیوں کو اسی صورت میں رہا کروا سکتا ہے جب وہ ’بالواسطہ مذاکرات‘ کرے اور لبنانی قیدیوں کو رہا کرے۔