امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ اتحادی ممالک عراقی فوج کو تقریباً دو تہائی اسلحہ مہیا کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔
پینٹاگون نے کہا کہ عراقی فوج نے جن چار کروڑ اشیاء کا آرڈر دیا تھا ان میں اسے اب تک صرف کروڑ چالیس لاکھ اشیاء ملی ہیں۔
اس سلسلے میں عراقی فوج کی تربیت پر مامور امریکی کمانڈر نے آلات عراق پہنچانے کے عمل میں تیزی پیدا کرنے کو کہا ہے۔
بدھ کو امریکہ میں عراق کے سفیر نے کہا تھا کہ اسلحے اور آلات کی ترسیل میں تاخیر سے عراقی مسلح افواج کی لڑنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
سمیر سمادئی کا کہنا تھا کہ ’جس رفتار پر عراقی مسلح افواج کو آلات اور اسلحہ مہیا کیا جا رہا ہے‘ اس پر عراقی حکومت میں بیزاری پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراقی فوج کو آلات اور اسلحے کی فراہمی عراقی حکومت اور امریکہ کی مشترکہ کوششوں سے ہوتی ہے لیکن ’یہ عمل اس تیزی سے نہیں ہو رہا کہ جس سے عراقی فوج کی لڑنے کی اہلیت میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔‘
درپیش چیلنج
دوسری جانب پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ وہ متعلقہ اشیاء عراق بھجوانے کے لیے جو ممکن ہے کر رہا ہے اور اس سلسلہ میں ان آلات کو ترجیح دی جا رہی ہے جو دہشتگردی کو روکنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
پینٹاگون کا کہنا تھا کہ چند مرتبہ کھیپ میں تاخیر کی وجہ امریکہ سے برآمدی لائسنس بنوانے کے عمل میں تاخیر تھی جبکہ کئی دفعہ ایسا عراقی فوج کی طرف سے آرڈر میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہوا۔
امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان برن وِٹمین نے کہا کہ ادارے اور عراقیوں کا مشترکہ مقصد ہے کہ عراقی فوجوں کو تمام ضروری آلات فراہم کیے جائیں لیکن ’یہ ایک چیلنج ہے اور یہ کام آپ ایک دن میں نہیں کر سکتے۔‘
اس دوران جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل پیٹر پیس نے عراقی افواج کو آلات کی فراہمی کے کام میں تیزی پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
گزشتہ ہفتہ عراق میں فوجوں کی تربیت کی نگرانی کرنے والے جنرل جیمز ڈبک نے جنرل پیٹر پیس سے آلات کی فراہمی کے عمل میں بہتری پیدا کرنے کو کہا تھا۔
دریں اثناء بی بی سی کے عراق میں ہلاکتوں کے تازہ ترین جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ بدھ کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک میں چار سو سولہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد اس سے پچھلے ہفتے کے دوران مرنے والوں کی تعداد سے خاصی کم ہے۔
بی بی سی کے سروے کا مقصد عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لینا ہے اور یہ سروے امریکی اورعراقی حکام کی جانب سے دیے جانے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔