Thursday, 26 July, 2007, 08:14 GMT 13:14 PST
فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے اختتام پر دونوں ممالک نے سکیورٹی، صحت عامہ اور امیگریشن سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدے بلغاریہ کے چھ طبی اہلکاروں کی لیبیا میں قید سے رہائی کے دوسرے روز فرانس کے صدر نکولس سرکوزی اور لیبیا کے معمر قذافی کے درمیان طرابلس میں ملاقات کے بعد ہوئے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے جوہری توانائی کے شعبہ میں بھی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا جس کے تحت سمندری پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
فرانس اور لیبیا کے رہنماؤں کی ملاقات کو طبی اہلکاروں کی رہائی کے بعد یورپی یونین اور لیبیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ کی دلچسپی
طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار تین میں معمر قذافی کے جوہری پروگرام ترک کرنے کے بعد سے لیبیا کی اچھوت حیثیت ختم ہونا شروع ہو گئی تھی۔
اس کے علاوہ لیبیا لاکربی کے اوپر پرواز کے دوران ایک مسافر طیارے کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے پر رضامند ہو گیا تھا۔ سنہ انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے اس بم دھماکے میں دو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تب سے لیبیا پر لگی ہوئی بین الاقوامی پابندیاں آہستہ آہستہ اٹھائی جا رہی ہیں۔
فرانسیسی صدر کے ایک معاون نے کہا: ’ ہمارا مقصد یہ ہے کہ لیبیا کے ساتھ تعاون کیا جائے تا کہ وہاں ایک جوہری ری ایکٹر لگا کر سمندر کے نمکین پانی کو پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔‘
![]() | |
| طبی اہلکاروں کے عزیزوں نے ان کا میں پرجوش اور جذباتی استقبال کیا |
رہا کیے جانے والے چھ طبی اہلکار سنہ 1999 سے لیبیا میں زیرِ حراست تھے اور انہیں سنہ 2004 میں سینکڑوں لیبیائی بچوں کو ایچ آئی وی میں مبتلا کرنے کا مرتکب پایا گیا تھا اور سزائے موت سنائی گئی تھی۔ دسمبر دو ہزار پانچ میں لیبیا کی سپریم کورٹ نے اس سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ ان چھ افراد میں ایک فلسطینی نژاد ڈاکٹر بھی شامل تھے جنہیں گزشتہ ماہ بلغاریہ کی شہریت دی گئی تھی۔
نرسیں اور ڈاکٹر اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔
زبردستی اعتراف جرم
اطلاعات کے مطابق بچوں کو ایچ آئی وی ایڈز کے وائرس سے متاثر کرنے کے معاملے میں جن بچوں پر تجربات کیے گئے تھے ان کے خاندانوں کو فی بچہ دس لاکھ امریکی ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا گیا ہے۔ ہرجانہ کی اس ڈیل کے تحت ہی اہلکاروں کو دی جانے والی سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
رہائی کے لیے جاری مذاکرات کے آخری مرحلے میں فرانس کے صدر کے علاوہ ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں۔
اہلکاروں کے بلغاریہ واپس پہنچنے پر ملک کے صدر نے ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا لیکن متاثرہ بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کو دوبارہ گرفتار کیا جائے۔
متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی تنظیم نے ایک بیان میں اہلکاروں کی رہائی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ایک لایعنی اقدام اور بے عزتی قرار دیا ہے۔
طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان سے بچوں کو وائرس لگانے کے جرم کا اعتراف تشدد کر کے کرایا گیا تھا۔