Monday, 23 July, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
چالیس سال تک افغانستان پر حکمرانی اور تین دہائیوں تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے ظاہر شاہ کابل میں بانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
پانچ برس پہلے اپنے جنگ سے تباہ حال ملک کو واپس جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی کوشش میں وطن واپس لوٹنے والے ظاہر شاہ انیس سو تہتر میں ایک محلاتی سازش کے نتیجے میں تخت سے الگ کردیے گئے تھے۔ ظاہر شاہ کا چالیس سالہ دور ایک ایسے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کی جد وجہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو اب تک ایک کے بعد ایک بحران سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔
سن دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے بعد جب ایک مرتبہ پھر متحد افغانستان کے لیے امید کی کرنیں پھوٹنا شروع ہوئیں تھیں تو کئی لوگ نہ صرف ظاہر شاہ کی واپسی کے منتظر ہوگئے بلکہ ان کی بادشاہت کی بحالی کی بھی باتیں ہونے لگیں تھیں۔
اکتوبر انیس سو چودہ کو پیدا ہونے والے ظاہر شاہ ، قتل کیے جانے والے افغان بادشاہ نادر شاہ کے بچ جانے والے واحد فرزند تھے جن کی تعلیم کابل اور فرانس میں ہوئی۔ آٹھ نومبر انیس سو تیتیس میں اپنے والد کے قتل کے چند گھنٹے بعد ہی ظاہر شاہ کو بادشاہ بنا دیا گیا اور انہوں نے متوکل اللہ پیرواِ دین ِ متین ِ اسلام کا ٹائیٹل اپنالیا۔ انیس چھیالس تک ظاہر شاہ کی بادشاہت میں ملک کا انتظام ان کے انکل محمد ہاشم اور شاہ محمود غازی نے چلایا۔
![]() | |
| ظاہر شاہ کی نوجوانی کی ایک تصویر |
انیس سو تہتر میں جب ظاہر شاہ اٹلی کے دورے پر تھے تو ان کے کزن محمد داؤد نے ان کا تختہ الٹ دیا اور ایک ری پبلکن حکومت قائم کر لی جس کے صدر وہ خود بن گئے اور ظاہر شاہ چالیس سال تک افغانستان کے حکمران رہنے کے بعد اٹلی میں جلا وطن ہوگئے۔
ان کی جلا وطنی کے دوران افغانستان میں روسی فوجی مداخلت بھی ہوئی اور طالبان کا دور بھی آیا اور ملک بد سے بد تر حالات کی طرف بڑھتا گیا۔
انیس سو اکیانوے میں ظاہر شاہ پر روم میں ان کے گھر پر ایک قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس میں وہ بچ گئے لیکن اس کے بعد اگلے دس برس تک وہ پبلک میں زیادہ نظر نہیں آئے۔
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کی تیاری کی تو ایک بار پھر ظاہر شاہ سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے اور طالبان کے بعد کے افغانستان کو متحد کرنے میں ان کے کردار پر بات شروع ہوئی۔
![]() | |
| ظاہر شاہ، صدر کرزئی بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ |
لیکن افغانستان کے بادشاہ کو اپنی سابق سلطنت میں قدم رکھتے ہی ایک بہت بری خبر نے آن لیا۔ لڑکپن میں ہی شادی کے بعد سے ان کی ساتھی ان کی ملکہ ہمیرا اٹلی میں دل کا دورہ پرنے سے انتقال کرگئیں۔
ظاہر شاہ ان کے انتقال سے اس قدر متاثر ہوئے کہ کئی دنوں تک کسی سے بھی ملاقات نہ کی۔
ظاہر شاہ کا افغانستان ترقی ، امن اور سیاسی اصلاحات کے لیے مشہور تھا اور وہ ایک مقبول اور روشن خیال بادشاہ کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔