Sunday, 22 July, 2007, 02:34 GMT 07:34 PST
ترکی کی سیاسی تاریخ میں اہم قرار دیئے جانے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جا رہی ہے۔ ملک کے اگلے صدر کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمانی انتخابات مقررہ مدت سے چار ماہ قبل ہو رہے ہیں۔
ترکی میں صدر کا انتخاب اس وقت تنازعے کا شکار ہوگیا جب حکومت نے راسخ العقیدہ مسلمان وزیر خارجہ عبداللہ گل کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جبکہ فوج اور ملک کے سیکولر حلقوں نے اس نامزدگی کی شدید مخالفت شروع کر دی۔
عبداللہ گل کی نامزدگی کے مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے صدر بننے سے ترکی کا سیکولر نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔
حزب اقتدار کی جماعت نے انتخابی مہم کے دوران اپنی اقتصادی کامیابیوں پر زور دیا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں حکمران جماعت پر ترکی کے سیکولر نظام کو بگاڑنے کا الزام عائد کرتی رہیں۔
ترکی کی پارلیمنٹ میں پانچ سو پچاس نشتوں پر چودہ جماعتوں کے درمیان انتخابی معرکہ ہو رہا ہے اور اس انتخابی معرکے میں چار کروڑ بیس لاکھ ووٹر اپنی رائے کا اظہار کرینگے۔
دارالحکومت انقرہ سے بی بی سی کی نامہ نگار سارا رینزفورڈ نے اطلاع دی ہے کہ لوگ ساحلی مقامات سے اپنی چھٹیاں ختم کر کے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ ملک کے سیکولر نظام کو بچایا جا سکے۔
سارا رینزفورڈ نے کہا کہ مذہب ان انتخابات میں ایک اہم معاملہ بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ ترکی کے بیرونی دنیا سے مستقبل میں تعلقات کا دار و مدار اسی نکتے پر ہے۔
![]() | |
| ترکی کے ان انتخابات میں مذہب بھی ایک اہم معاملہ ہے |
ترکی کے انتخابی قوانین کے مطابق سنیچر کی رات کو ملک بھر میں سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور انتخابی بینر اتار دیئے گئے۔
انتخابات کا انعقاد ان آئینی اصلاحات پر تعطل ختم کرنے کے لیے ہو رہا ہے جو صدر کے انتخاب کے دوران حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے دوران پیدا ہونے والے اختلاف حل کرنے کے لیے وزیر اعظم طیب اردگان کی طرف سے تجویز کی گئی تھیں۔
طیب اردگان نے تجویز پیش کی تھی کہ ملک کے صدر کے انتخاب پارلیمان کی بجائے براہراست کرائے جائیں۔
یہ تجویز حکمران جماعت کی طرف سے اس کے صدارتی امیدوار عبداللہ گل کو پارلیمان سے کئی مرتبہ مسترد کیئے جانے کے بعد پیش کی گئی تھی۔
ترکی کے موجودہ صدراور اس کی سیکولر انتظامیہ نے حکمران جماعت کے مذہبی ایجنڈے کی مزاحمت کرنے کا عزم کیا تھا۔
وزیر اعظم طیب اردگان اسلامی ایجنڈے پر عمل کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
ان کی حکومت کے گزشتہ پانچ سالوں میں اقتصادی ترقی ہوئی ہے اور انہوں نے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے مذاکرات بھی شروع کیئے ہیں۔