Friday, 20 July, 2007, 09:03 GMT 14:03 PST
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی جنوبی کوریائی باشندے اغوا کر لیے ہیں۔ سِیول میں حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ اغوا ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔
حکام نے کہا کہ کوریائی باشندوں کو جس وقت اغوا کیا گیا وہ بس میں قندھار سے کابل سفر کر رہے تھے۔ کابل سے بدھ کے روز اغوا ہونے والے دو جرمنوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔
جنوبی کوریا کی ایک خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق اغوا ہونے والے کوریائی نوجوان عیسائی ایوینجلسٹ تھے۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ
ایک انٹیلیجنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو تقریباً بیس جنوبی کوریائی باشندوں کو اغوا کر لیا گیا جس کی حکومت مختلف ذرائع سے تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
غزنی صوبے میں ضلع کاراباغ کے گورنر نے اس واقعے کی تصدیق کی لیکن ان کے مطابق اغوا ہونے افراد کی تعداد سولہ ہے۔ گورنر نے کہا کہ انہیں اس علاقے میں جنوبی کوریائی باشندوں کی موجودگی کی اطلاع نہیں تھی۔
گورنر نے کہا کہ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے پہلے بس کے ڈرائیور کو بھی اغوا کیا تھا جسے بعد میں چھوڑ دیا گیا۔