http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 18 July, 2007, 11:58 GMT 16:58 PST

کوریا نے مزید تنصیبات بند کر دیں

بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے پانچوں جوہری ری ایکٹر بند کر دیے ہیں۔

ملائشیا میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا میں موجود ان کے مبصرین نے مزید چار ری ایکٹرز بند ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

شمالی کوریا نے یانگ بیون کے مقام پر قائم اپنا واحد چالو ری ایکٹر سنیچر کے روز بند کر دیا تھا۔

تمام ری ایکٹرز بند ہونے کی تصدیق ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب بین الاقوامی نمائندے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی بندش کے سلسلے میں ہونے والی ڈیل پر بات چیت کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

کوالا لمپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے البرادعی نے کہا: ’ ہم نے تصدیق کر لی ہے کہ پانچ کے پانچ جوہری ری ایکٹر بند کر دیے گئے ہیں اور ان جوہری تنصیبات کو سربمہر کرنے سمیت دیگر ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں۔‘
شمالی کوریا نے اپنا واحد چالو ری ایکٹر سنیچر کے روز بند کر دیا تھا

انہوں نے مزید کہا: ’ ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران ہم (ری ایکٹرز) کے بند کیے جانے پر کیے جانے والے ضروری اقدامات اور ان کی تصدیق کا عمل جاری رکھیں گے۔‘

پانچ بند کی جانے والی جوہری تنصیبات میں ایک زیر تعمیر ری ایکٹر اور جوہری ایندھن کی پروسسنگ کا ایک مرکز بھی شامل ہے۔

یانگ بیون کی تنصیبات کو بند کرنا فروری دو ہزار سات میں ہونی والی اس ڈیل کا پہلا قدم ہے جس کے تحت جوہری پروگرام ترک کرنے کی صورت میں شمالی کوریا کو ایک سو ملین ٹن توانائی کے برابر امداد دی جائے گی۔

شمالی کوریا کے ساتھ جوہری معاملات طے کرنے والے ممالک امریکہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا اور روس کے نمائندوں کے علاوہ شمالی کوریا کے سفارتکاروں کے درمیان بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات دو دن جاری رہیں گے۔

 سنیچر کو یانگ بیون کے پلانٹ کے بند ہونے سے کچھ گھنٹے قبل، شمالی کوریا نے تیل کی ایک بڑی کھیپ وصول کر لی تھی جواس اقتصادی امداد کا ایک حصہ تھی جس کا وعدہ ری ایکٹر کو بند کرنے کے بدلے میں کیا گیا تھا
 

پانچوں ممالک کی خواہش ہے کہ شمالی کوریا جوہری پورگرام ختم کرنے کے دوسرے مرحلے کے لیے نظام الاوقات پر متفق ہو جائے جس میں اس کی طرف سے جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنانا اور اس کا باقاعدہ اعلان کرنا شامل ہیں۔

بیجنگ ملاقات سے قبل امریکی مذاکرات کار کرسٹوفر ہِل نے کہا کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ ابھی ہمیں کافی آگے جانا ہے۔ شاید ہم کوشش کر سکتے ہیں اس اگلے مرحلے کے اقدامات اسی سال کے دوران مکمل ہو جائیں۔‘

ادھر دارالحکومت پیانگ یانگ سے روانگی سے قبل شمالی کوریا کے نمائندے نے کہا کہ چھ فریقی مذاکرات میں ان توقعات اور اقدمات پر بات ہو گی جن کی تکمیل تمام فریقوں کو کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو یانگ بیون کے پلانٹ کے بند ہونے سے کچھ گھنٹے قبل، شمالی کوریا نے تیل کی ایک بڑی کھیپ وصول کر لی تھی جواس اقتصادی امداد کا ایک حصہ تھی جس کا وعدہ ری ایکٹر کو بند کرنے کے بدلے میں کیا گیا تھا۔

عالمی ادارے کے سربراہ محمد البرادعی نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری تنازعات کو حل کرنے کا بہترین طریقہ مکالمہ ہے۔

جنوبی کوریا نے گزشتہ برس جوہری ٹیسٹ کیا تھا اور کہتا رہا ہے کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے اسے جوہری ہتھیار درکار ہیں۔