Thursday, 12 July, 2007, 17:50 GMT 22:50 PST
راجر ہارڈی
بی بی سی تجزیہ نگار
امریکی انٹیلیجنس کے تین سینیئر اہلکاروں نے ایک بدھ کوسینیٹ میں دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن پر کیے گئے حملوں کے چھ سال بعد القاعدہ مزید مضبوط ہو گئی ہے اور مغرب پر حملہ آور ہونے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
امریکی انٹیلیجنس کا یہ تازہ ترین تجزیہ بدھ کو منظرِ عام پر آیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس میں آج ایک میٹنگ ہونے والی ہے جس کا عنوان بھی یہی ہے یعنی’القاعدہ مغرب پر حملے کی بہتر پوزیشن میں‘۔ اس میٹنگ کی دستاویزات کی بنیاد امریکی انٹیلیجنس کے بیان پر ہی ہے۔
ان افسران کے مطابق گو کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القاعدہ کمزور پڑ گئی تھی لیکن پچھلے تمام برسوں میں القاعدہ نے خود کو دو بارہ منّظم کر لیا ہے اور اب وہ مغربی اقوام کے لیے پہلے سے بڑا خطرہ ہے۔
ایک سینیئر سی آئی اے افسر جان کرنگن نے پاکستان کے ان علاقوں کو القاعدہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیا جہاں حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ان علاقوں سے مراد پاک افغان سرحد کا وہ علاقہ ہے جہاں لاقانونیت کا راج ہے۔
ایک اور ممتاز سی آئی اے اہلکار رابرٹ کارڈیلو نے اس امر کی وجہ گزشتہ سال پاکستانی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو قرار دیا۔
دو ہفتے قبل لندن اور گلاسگو میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد ماہرین کی تمام تر توجہ مغرب کو لاحق خطرے کی طرف ہوگئی ہے جبکہ سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف نے خدشہ ظاہر کیا کہ موسمِ گرما میں القاعدہ کا ٹارگٹ امریکہ ہوگا۔
تاہم انٹیلیجنس کے تینوں اہلکاروں نے سیکیورٹی کے سیکریٹری داخلہ مائیکل شیر ٹوف کے بیان سے خود کو مستثنٰی قرار دیا تاہم حملے کے امکان کو مسترد نہ کرتے ہوئے تینوں اہلکاروں نے کہا کہ اس طرح کی معلومات دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر اس خطرے کو قابلِ یقیین سمجھا جائے۔