Wednesday, 11 July, 2007, 13:44 GMT 18:44 PST
اکیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو لندن کی ٹرینوں پر بم حملے کی سازش میں قصوروار چاروں ملزموں کو کم سے کم چالیس سال عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
بدھ کو وولِچ کراؤن کورٹ میں فیصلہ سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا دو ہزار پانچ میں تین انڈر گراؤنڈ ٹرینوں اور ایک بس پر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا ان افراد کا منصوبہ ’قتل عام کی ایک منظم کوشش تھی‘۔
پیر کو لندن کی ایک عدالت نے انتیس سالہ مختار ابراہیم، چھبیس سالہ یاسین عمر، پچیس سالہ رمزی محمد اور اٹھائیس سالہ حسین عثمان کو اکیس جولائی سنہ دو ہزار پانچ کو لندن کی ٹرینوں پر بم حملے کی سازش میں قصور وار قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ چھ ماہ تک چلا جس کے بعد جیوری نے بلا اختلاف ان چار ملزمان کو قصوروار پایا۔ دو اور ملزموں کے قصوروار ہونے یا نہ ہونے پر جیوری نے ابھی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ یہ دونوں افراد منفو کواکو اور عدیل یحییٰ دوبارہ سے قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔
جسٹس فلفورڈ کیو سی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی جانب سے ناکام بم حملوں کی کوششوں کا تعلق واضح طور پر سات جولائی کو ہونے والے لندن بم دھماکوں سے تھا جس میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ نا کام حملے سات جولائی کے حملوں کے دو ہفتے بعد یعنی اکیس جولائی کو ہوئے تھے۔
جج کا کہنا تھا:’سات جولائی دو ہزار پانچ کو جو کچھ ہوا وہ اس فیصلے کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دونوں حملے القاعدہ سے متاثر اور اس کے تحت کیے جانے والے حملوں کے سلسلے کا حصہ تھے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد نے اس طرح منصوبے بندی کی تھی کہ زیادہ سے زیادہ نقصان ہو اور انہوں نے پوری طرح سے غور کے بعد اس منصوبے پر عمل
درآمد کیا تھا۔
جج کا کہنا تھا کہ عدالتی کارروائی کے دوران سائنسی شواہد سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہ منصوبہ کامیابی سے کتنا قریب تر تھا۔’اگر نصب کرنے والے بموں کو مزید طاقت ور بنا دیتے تو اس صورت میں ہر بم کہیں زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوتا‘۔
فیصلہ سناتے ہوئے آخر میں جج کا کہنا تھا کہ سزا پانے والے کسی ایک بھی شخص کی چالیس سال سے قبل رہائی کے بارے میں غور نہیں کیا جاسکتا۔
![]() | |
| سات جولائی 2005 کے بم دھماکوں میں 52 افراد ہلاک ہو گئے تھے |
سو ہیموانگ کا کہنا تھا کہ ان افراد نے باہمی اشتراک سے لندن کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے کئی ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد خود بم تیار کیے۔ اگرچہ وہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تاہم ان کا مقصد واضح تھا۔’وہ بڑے پیمانے پر قتل اور ضرر پہنچانا چاہتے تھے‘۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ سی پی ایس دو دیگر افراد عدیل یحیی اور منفو کواکو کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنے کا مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
سزا پانے والے چاورں مجرم مشرقی افریقی نژاد ہیں اور یہ نوے کی دہائی میں برطانیہ آئے تھے۔ مختار ابراہیم اور رمزی محمد کو لندن سے جبکہ یاسین عمر کو برمنگھم سے گرفتار کیا گیا تھا۔ چوتھا مجرم حسین عثمان برطانیہ سے اٹلی نکل گیا تھا لیکن اسے روم سے گرفتار کر کے برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔