Sunday, 08 July, 2007, 11:17 GMT 16:17 PST
اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے تیئں حمایت ظاہر کرتے ہوئے ڈھائی سو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ معاہدہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت اور مسٹر عباس کے درمیان حالیہ ملاقات میں طے پایا ہے۔
اب رہا ہونے والے قیدیوں کی رسمی فہرست تیا ر کی جانی ہے اور توقع ہے کہ یہ تمام قیدی محمود عباس کے فتح گروپ سے ہوں گے۔
غزہ پر حماس کا قبضہ ہونے کے بعد محمود عباس نے ہنگامی حکومت قائم کی ہے جس کے بعد اسرائیل اور مغربی حکومتوں نے فلسطین کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں۔
کابینہ کے اجلاس میں ایہود اولمرت نے کہا کہ ’ہم فلسطینی اتھارٹی میں معتدل عناصر کو مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی’ با معنی مذاکرات‘ شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں تقریباً دس ہزار فلسطینی قیدی ہیں جن میں کچھ بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔اس سے قبل 2005 میں اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت چار سو فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔