Saturday, 07 July, 2007, 10:33 GMT 15:33 PST
امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ عراقی شہر فلوجہ میں امریکی میرینز کی کارروائیوں کے حوالے سے ان پر لگنے والے’قابلِ بھروسہ الزامات‘ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان تحقیقات کا مرکز وہ رپورٹ ہے جس کے مطابق فلوجہ میں ایک میرین یونٹ کے ممبران نے متعدد نہتے عراقی قیدیوں کو ہلاک کیا تھا۔اسی یونٹ کے مختلف ممبران کے خلاف بعد ازاں عراقی شہر حدیثہ میں چوبیس شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
امریکی بحریہ کی’ کرمنل انوسٹی گیشن سروس‘ کے حکام کے مطابق ان تحقیقات کے نتائج متعلقہ حکام کو پیش کر دیے جائیں گے جو مزید اقدامات کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
امریکی بحریہ نے ان تحقیقات کا آغاز فرسٹ میرینز کی تھرڈ بٹالین کے ایک سابق ممبر کی جانب سے پولی گرافک ٹیسٹ کے دوران ان تفصیلات کے افشاء کیے جانے کے بعد کیا تھا۔
مذکورہ میرین کا انٹرویو کرنے والے فوجی مصنف نتھینیئل ہلمز نے ایک آن لائن رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ مشتبہ مزاحمت کاروں کو ایک متروک عمارت میں قیدی بنا کر رکھا گیا اور وہیں انہیں ہلاک بھی کیا گیا۔
تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نمائندے ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ اگر امریکی میرینز پر مقدمہ چلا تو استغاثہ کو یہ الزام ثابت کرنے میں شدید دشواری ہو گی کیونکہ اس حوالے سے اس کے پاس کسی قسم کے فورینزک ثبوت، لاشیں یا عینی شاہد موجود نہیں۔
یاد رہے کہ فلوجہ اپریل اور نومبر سنہ 2004 میں مزاحمت کاروں اور اتحادی افواج کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز رہا تھا۔