Thursday, 05 July, 2007, 00:23 GMT 05:23 PST
اسرائیل کی جانب سےمنجمد ٹیکس فنڈز کی فراہمی کے بعد ہزاروں فلسطینی سرکاری ملازمین کو تقریباً سولہ ماہ بعداپنی پہلی پوری تنخواہ ملی۔
بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں پر اپنی کیش تنحواہ لینے والے فلسطینیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اتوار کو اسرائیل نے نئی ہنگامی حکومت کو پہلی قسط کے طور پر تقریباً ایک سو سترہ ملین ڈالر کی رقم دی ہے۔ایک اندازے کے مطابق مارچ دو ہزار چھ کے بعد سے ہزاروں فلسطینی افسران کو ان کی پوری تنخواہ نہیں مل رہی تھی۔
فلسطینی حکام نے اس وصولی کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن میں مزید رقم دی جائے گی۔
وزارتِ زراعت میں کام کرنے والے اکیاون سالہ جیسر صبائی کا کہنا تھا ’ایک سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ مجھے اپنی پوری تنخواہ مل رہی ہے‘۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ تمام تنخواہ ادھار کی ادا کرنےمیں چلی جائے گی۔
غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے حماس کی حکومت برخاست کیے جانے کے بعد اسرائیل نے یہ فنڈز جاری کرنے شروع کیے ہیں۔