http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 29 June, 2007, 07:29 GMT 12:29 PST

ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

امرناتھ یاترا سے پہلے حملوں میں تیزی

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہندوؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا اور ہندستانی وزیرداخلہ شِوراج پاٹِل کے دورہء کشمیر سے قبل جنگجوؤں کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔

تشدد میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ہندوستان کی نیم فوجی قوت، سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ملکی سربراہ یا ڈائریکٹر جنرل سید افتخار احمد جموں کشمیر کے دورے پر ہیں۔ کشمیر میں تعینات سی آر پی ایف کے ترجمان ایس ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا کہ مسٹرافتخار یاترا کرنے اور ہوم منسٹر کے دورے سے قبل سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں۔

اس دوران فوجی ترجمان نے کنٹرول لائن کے اوڑی سیکٹر سے دراندازی کی تازہ کوششوں کا بھی انکشاف کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بارہ مسلح دراندازوں اور فوج کے مابین جھڑپ میں کم ازکم سات جنگجو مارے گئے ہیں۔

پولیس ریکارڑ کے مطابق صرف شمالی کشمیر میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران جنگجوؤں نے دو گشتی پارٹیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا ،جسمیں ایک افسر سمیت چار فوجی اور ایک مقامی پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سرحدی ضلع کپواڑہ میں صرف چوبیس گھنٹوں کے دوران فوج اور جنگجوؤں کے درمیان دو خونریز مقابلے ہوئے۔ گزشتہ روز جنگجوؤں نے فوج کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر فدائی حملہ کرنے کی کوشش کی جسمیں تین حملہ آور جنگجو مارے گئے۔ تازہ واقعہ میں جمعہ کے روز جنگجوؤں اور فوج کے درمیان کپواڑہ کے ہندوارہ قصبہ میں ایک اور جھڑپ شروع ہوئی۔

شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی پولیس مسٹر سری نِواسن نے بی بی سی کو بتایا، ’ہندوارہ میں اس وقت جنگجوؤں نے ایک ہائڈ آوٹ میں پناہ لے رکھی ہے، فوج اور پولیس ٹاسک فورس نے مکان کو گھیرے میں لے لیا ہے۔‘

ایک سرکاری ترجمان کے مطابق ہندوستان کے وزیر داخلہ شِوراج پاٹل تیس جون کو دو ماہ کےلیے شروع ہونے والی یاترا کا افتتاح کرینگے۔

یاترا سیکورٹی کے انچارج سی آر پی کے ڈی آئی جی نتھانیل نے بی بی سی کو بتا یا کہ انہیں سراغ رساں ایجنسیوں نے پہلے ہی یہ اطلاع دی تھی کہ جنگجو یاترا کو سبوتاژ کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’ہم نے جموں صوبے میں لشکر طیبہ کے جن تین لڑکوں کو پکڑا ہے، ان کے بارے میں اطلاع تھی کہ وہ یاترا کے دوران حملہ کرینگے۔

نتھانیل نے مزید کہا کہ سرینگر سے بال تل تک، جہاں سے امرناتھ گھپا تک پیدل یاترا شروع ہوتی ہے، سیکورٹی کے کڑے انتظامات ہیں۔