Thursday, 28 June, 2007, 02:59 GMT 07:59 PST
حال ہی میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق رائے عامہ عالمی طاقتوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔ واشنگٹن کے پیو ریسرچ سنٹر کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق دنیا بھر میں امریکہ کی مخالفت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
دنیا کے سینتالیس ممالک میں کیے گئے اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چین کے بارے میں رائے عامہ اب پہلے جیسی مثبت نہیں رہی ہے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن پر اعتماد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
سروے کے مطابق پوتن اگرچہ روسی عوام میں مقبول ہیں لیکن ان کے بارے میں باقی دنیا میں پائے جانے والے تحفظات اب اتنے ہی شدید ہیں جتنے امریکی صدر بش کے بارے میں۔
امریکہ کی مخالفت مسلم ممالک میں زیادہ دیکھنے میں آئی ہے اور ان میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جو اس کے اتحادی ہیں۔ مثلاً ترکی میں امریکہ کی حمایت صرف 15 فیصد جبکہ پاکستان میں 9 فیصد رہ گئی ہے۔
تاہم سروے میں شامل سینتالیس میں سے پچیس ممالک میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔
اسی طرح چین کی پھیلتی ہوئی معیشت اور فوجی قوت کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سپین، جرمنی اور فرانس میں چین کے بارے میں پائی جانے والی مثبت رائے میں کمی واقع ہوئی ہے۔
چین کے بارے میں ایشیا میں مجموعی طور پر رائے عامہ اگرچہ بہتر رہی لیکن بھارت میں اس کا منفی تاثر ابھر رہا ہے۔
لیکن روس میں صدر پوتن کی قیادت پر اعتماد کی شرح پیو ریسرچ سنٹر کے سروے کے مطابق 84 فیصد رہی جبکہ صرف 54 فیصد امریکی صدر بش پر ایسے ہی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
سروے کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل پر لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہے ہے۔ امریکہ کو اس کا (ماحولیاتی مسائل) زیادہ تر ذمہ دار سمجھا جاتا ہے جبکہ چین کو بھی کسی حد تک۔
پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق سروے میں پینتالیس ہزار لوگوں کو انٹرویو کیا گیا، جن کا تعلق دنیا کے چھیالیس مختلف ممالک اور فلسطینی اتھارٹی سے تھا۔