Monday, 25 June, 2007, 03:57 GMT 08:57 PST
فلسطینی انتظامیہ کے معزول وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کی طرف سے محمود عباس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی ایمرجنسی حکومت کے لیے فلسطین کے منجمد ٹیکس فنڈ کے اجراء کی منظوری کو رشوت ستانی اور سیاسی استحصال قرار دیا ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی جماعت حماس اس حکومت کا حصہ نہیں ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ سال حماس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد لاکھوں ڈالروں کی ادائیگی روک دی تھی۔
اسماعیل ہنیہ نے پیر کے روز فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس، اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت، مصر کے صدر حسنی مبارک اور اردن کے شاہ عبداللہ کے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسرائیل کی طرف سے اب رقم کی ادائیگی کا مقصد حماس کے بر خلاف غزہ کی پٹی میں محمود عباس کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
ایک اسرائیلی وزیر نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی یہ رقم مرحلہ وار دی جائے گی تا کہ یہ رقم حماس کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔
ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ ان فنڈز سے نئی فلسطینی حکومت کو ’بتدریج مدد‘ ملتی جائے گی جو ظاہر ہے کہ حماس کی حکومت نہیں ہے۔
اس ہلکار کا کہنا تھا کہ یہ رقم فلسطینی صدر کی طرف سے طلب کی جانے والی رقم سے سات سو ملین کم ہے۔
یہ رقم گزشتہ ہفتے امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل کے اس اعلان کے بعد جاری کی جانے والی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ محمود عباس کی جانب سے ایمرجنسی حکومت کی تشکیل کے بعد فلسطینی انتظامیہ پر نافذ اقتصادی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس حماس پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ اس نے اسرائیل کو سارے فلسطینی عوام کو سزا دینے کا جواز مہیا کیا۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اس کے قرض اتارنے کے لیے تین کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔