اسرائیل نے محمود عباس کے تحت فلسطینی اتھارٹی کی ایمرجنسی حکومت کے لیے فلسطین کے منجمد ٹیکس فنڈ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد حماس کے بر خلاف غزہ کی پٹی میں محمود عباس کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
ایک اسرائیلی وزیر نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی یہ رقم مرحلہ وار دی جائے گی تا کہ یہ رقم حماس کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے۔
اسرائیل نے جنوری 2006 میں حماس کی کامیابی کے بعد ٹیکسوں کے ذریعے جمع ہونے والی یہ رقم روک لی تھی۔
اسرائیلی کابینہ نے اس رقم کے اجراء کی منظوری اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت، محمود عباس اور مصری و اردنی رہنماؤں کے درمیان سربراہ ملاقات سے قبل جاری کی ہے۔
ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ ان فنڈز سے نئی فلسطینی حکومت کو ’بتدریج مدد‘ ملتی جائے گی جو ظاہر ہے کہ حماس کی حکومت نہیں ہے۔
بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اکثر فلسطینی اس وقت تک خدشات کا شکار ہیں جب تک کہ فنڈز فلسطینی اتھارٹی کو موصول نہیں ہو جاتے۔
فلسطینی ٹیکسوں کی رقم اسرائیل نے جنوری 2006 میں حماس کی کامیابی کے بعد ٹیکسوں کے ذریعے جمع ہونے والی یہ رقم روک لی تھی |
اس ہلکار کا کہنا تھا کہ یہ رقم فلسطینی صدر کی طرف سے طلب کی جانے والی رقم سے سات سو ملین کم ہے۔
یہ رقم گزشتہ ہفتے امریکہ، یورپی یونین اور اسرائیل کے اس اعلان کے بعد جاری کی جانے والی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ محمود عباس کی جانب سے ایمرجنسی حکومت کی تشکیل کے بعد فلسطین پر نافذ اقتصادی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس حماس پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ اس نے اسرائیل کو سارے فلسطینی عوام کو سزا دینے کا جواز مہیا کیا۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اس کے قرض اتارنے کے لیے تین کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔