Saturday, 23 June, 2007, 12:56 GMT 17:56 PST
افغان صدر حامد کرزئی نے بین الاقوامی افواج پر طالبان مخالف کارروائیوں میں شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ ’غیرذمہ دارانہ‘ برتاؤ کا الزام لگایا ہے۔
ان کا یہ بیان نیٹو کارروائیوں میں سویلین ہلاکتوں پر شدید ردعمل کے طور پر سمجھا جارہا ہے۔ صدر کرزئی نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا: ’ہمارے معصوم لوگ غیرذمہ دارانہ کارروائیوں کا شکار ہورہے ہیں۔‘
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نیٹو اور امریکی افواج کی کارروائیوں کے دوران لگ بھگ نوے سویلین مارے گئے ہیں۔ صدر کرزئی نے تصدیق کی کہ گزشتہ دس روز کے دوران نوے سویلین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
افغانستان میں اس وقت دو فوجی مشن تعینات ہیں۔ ایک مشن امریکہ سمیت سینتیس ممالک پر مشتمل ہے اور نیٹو کے تحت کام کرتا ہے۔ اس میں سینتیس ہزار فوجی شامل ہیں۔ دوسرا مشن امریکہ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر کرزئی کے چہرے پر غصہ ظاہر تھا اور انہوں نے نیٹو اور اتحادی افواج پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ افغان فوج کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہے ہیں۔
افغان صدر نے کہا کہ ان کا ملک عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے اور افغانوں کے مدد کے لیے شکرگزار بھی ہے ’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ افغانوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔‘
جمعہ کو نیٹو نے اعلان کیا کہ صوبہ ہلمند میں پچیس سویلین ہلاکتوں کی تحقیقات کی جائیں۔