Friday, 22 June, 2007, 11:55 GMT 16:55 PST
دنیا میں آزادانہ تجارت کے نظام کے قیام کے لیے جرمنی میں ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہوگئے ہیں۔ان مذاکرات میں یورپی یونین، امریکہ، انڈیا اور برازیل کے وزرائے تجارت نے شرکت کی۔
مذاکرات کی ناکامی کے لیے امریکہ اور یورپی یونین نے برازیل اور انڈیا پر اپنی معیشتیں مغربی ممالک کی تیار کردہ اشیاء کے لیے نہ کھولنے کا الزام لگایا۔ جبکہ انڈیا اور برازیل نے امریکہ اور یورپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے کسانوں کو دی جانے والی زرعی سبسڈی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
برازیل کے وزیر خارجہ سیلسو امورِم نے بتایا کہ برازیلی اور انڈین وفود مذاکرات کے ’بےسود‘ ثابت ہونے کی وجہ سے چلے گئے۔ انڈیا کے وزیر تجارت کمل ناتھ نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے رویے میں ’اہم تبدیلی کی ضرورت‘ ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی فراٹو نے امریکی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صدر جارج بش کو ’مایوسی ہوئی ہے کہ کچھ ممالک تجارت کے فروغ کے موقع کو روک رہے ہیں۔‘
یورپی یونین کے تجارتی کمِشنر پیٹر مینڈیلسن نے بھی کچھ ایسا ہی کہا کہ ’اگرچہ یورپ کچھ نرمی کے لیے تیار ہے تاہم کچھ بھی نہ ملنے کے عوض ہم یہ نہیں کرینگے۔‘
ماحولیات کے دفاع کے لیے کام کرنے والے پریشر گروپ زمین کے دوست یعنی ’فرینڈز آف ارتھ‘ نے مذاکرات کی ناکامی کو اچھی خبر قرار دیا ہے۔ تنظیم کے اہلکار زو زکون نے کہا کہ ایسے خفیہ مذاکرات کی ناکامی تجارت کے نظام کے لیے ایک متبادل طریقۂ کار وضع کرنے کا موقع ہے جو ماحولیات اور ترقی پزیر ممالک کے لیے سودمند ہوگا۔
زو زکون نے کہا کہ موجودہ تجاویز امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے لائی گئی تھیں اور ان میں غریب برادریوں اور ان کے قدرتی وسائل کے مقابلے میں بڑی کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد یورپی یونین نے کہا کہ وہ اپنے کسانوں کو ملنے والی زرعی سبسڈی میں پچاس فیصد کمی کے لیے تیار تھی۔
دنیا میں آزادانہ تجارت کے قیام کے لیے دوحہ راؤنڈ کے مذاکرات اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے سربراہ پسکال لامی نے کہا ہے کہ اگر یہ اختلافات جلد ختم نہیں کیے گئے تو مذاکرات کا دوحہ دور طویل عرصے کے لیے تعطل کا شکار ہوجائے گا۔