Thursday, 21 June, 2007, 04:13 GMT 09:13 PST
عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ امریکہ کو توقع تھی کہ فوجی کارروائیوں میں اضافے کےساتھ القاعدہ کی کارروائیوں میں تیزی آئے گی۔
ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو میں جنرل پیٹریس نے کہا کہ منگل کو بغداد میں ہونے والا دھماکہ جس میں ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے القاعدہ کی کارروائیوں میں تیزی کی ایک مثال ہے۔
جنرل پیٹریس نے کہا کہ اسی کے قریب القاعدہ کے شدت پسند ہر ماہ شام سے عراق میں داخل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ القاعدہ چاہتی تھی کہ امریکی فوجیوں کی کارروائیوں میں اضافہ کی خبریں لوگوں میں زیادہ امیدیں پیدا نہ کریں۔
جنرل نے ان خبروں کی تردید کی کہ اس سال ستمبر میں وہ کانگرس کے سامنے جو رپورٹ پیش کرنے والے ہیں وہ عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا راستہ ہموار کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر رپورٹ دینے کی آخری تاریخ تھی نہ کہ عراق سے فوجوں کے انخلاء کی۔