Wednesday, 20 June, 2007, 23:45 GMT 04:45 PST
اسرائیل وزیر خارجہ سپی لبنی اور فلسطینی کی ایمرجنسی حکومت کے وزیر اعظم سلام فیاض کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان باضابط رابطہ قائم ہو گیا ہے۔
سپی لبنی نے فلسطینی وزیراعظم سلام فیاض سے کہا کہ فلسطین میں حماس کے بغیر حکومت کے قیام سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود اولمرت نے فوج سے کہا ہے کہ وہ بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو غزہ سے جانے کی اجازت دے دیں۔
دریں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس پر غزہ میں اپنی علیحدہ ریاست قائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
انہوں نے حماس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’قاتل دہشت گرد‘ اور سازشی قراد دیا۔ محمود عباس نے حماس سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی میں حالیہ بحران کا اسرائیل کے ساتھ جاری بات چیت پر اثر نہیں پڑے گا۔
لبنان میں حماس کے ایک رہنماء عثمان ہمدان نے محمود عباس کی تقریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔
ہمدان نے کہا کہ یہ کسی بھی رہنماء کے لیے انتہائی نامناسب بات ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں سے جن کے سیاسی اثرورسوخ سے اچھی طرح واقف ہیں بات چیت کے دروازے بند کر دے۔
رام اللہ میں بی بی سی کے نمائندہ رحیم مقبول نے کہا ہے کہ یہ محمود عباس کی طرف سے انتہائی سخت تقریر تھی۔
محمود عباس نے حماس پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ ماہ غزہ میں ان کے دورے کے دوران انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایسی ویڈیو دیکھی ہیں جن میں شدت پسند انہیں ہلاک کرنے کی سازش کر رہے تھے۔
فلسطینی صدر نے کہا کہ حماس نے اسرائیل کو سارے فلسطینی عوام کو سزا دینے کا جواز مہیا کیا ہے جبکہ انہوں نے اسرائیل کو خبر دار کیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر غزہ اور غرب اردن کوعلیحدہ نہ کر دے۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے اس کے قرض اتارنے کے لیے تین کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔