Wednesday, 20 June, 2007, 09:05 GMT 14:05 PST
دنیا بھر میں بی بی سی کے عملے کے اراکین غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کے اغواء کے سو دن مکمل ہونے پر بدھ کو ایک خاموش مظاہرہ کریں گے۔
گلاسٹنبری فیسٹول، برطانیہ میں ڈراموں کے سیٹ، نیوز رومز اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے بی بی سی کے عملہ کے اراکین ایک بج کر پندرہ جی ایم ٹی پر یہ خاموش مظاہرہ کریں گے۔
ایلن جانسٹن کے والدین ان کے اغواء کے سو دن پورے ہونے پر سُو غبارے ہوا میں چھوڑیں گے۔ فلسطین کا ایک گروہ جو خود کو’اسلام کی فوج‘ کہتا ہے، نے ان کے اغواء کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پیر کوشدت پسند تنظیم حماس نے غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کے اغواء کاروں کو پیر تک کی مہلت دے دی تھی مگر یہ مہلت بھی بغیر کسی پیش رفت کے گزر گئی ہے۔
ایلن جانسٹن واحد غیرملکی صحافی ہیں جو مستقل طور پر غزہ میں ہی رہ رہے تھے۔ ان کے اغواء کی خبر کے منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر میں سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کی رہائی کے لیے اپیلیں شروع کردی تھیں۔
![]() | |
| دنیا بھر میں ایلن جانسٹن کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے |
بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین سر مائیکل لِیوون بھی ایک میٹنگ میں وقفہ کے دوران سینٹرل لندن کے براڈ کاسٹنگ ہاؤس میں اس سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔ بی بی سی کا سوپ اوپیرا ’ایسٹ اینڈرز‘ کے سیٹ پر اور ولشائر میں ہونے والے گلاسٹنبری فیسٹیول میں موجود اراکین اس خاموش مظاہرے میں حصہ لیں گے۔
توقع ہے کہ اس ’خاموشی‘ کے دوران اراکین کی اکثریت کے ہاتھوں میں ایلن جانسٹن کی تصویر بھی ہوگی۔ بی بی سی 24 اور بی بی سی ورلڈ اس تقریب کو براہ راست نشر کریں گے۔ بی بی سی ورلڈ سروس اور بی بی سی انٹرایکٹو سروسز بھی اس مظاہرے کا حصہ ہوں گی۔
گزشتہ جمعہ کو حماس نے کہا تھا کہ وہ ایلن جانسٹن کے اغواء کاروں سے رابطے میں ہے اور ان کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایلن جانسٹن کو آرمی آف اسلام نامی ایک تنظیم نے اس سال مارچ میں غزہ سے اغواء کیا تھا۔ تاہم اس کے دو دن بعد ایک وڈیو ٹیپ میں غزہ میں ایلن جانسٹن کے مبینہ اغوا کاروں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا صحافی کی رہائی کے لیے حماس سے کوئی معاہدہ طے پایا ہے مگر الجزیرہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اس ویڈیو میں ایک نقاب پوش بندوق بردار نے اپنا تعلق ’آرمی آف اسلام‘ سے بتاتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ حماس سے ملاقاتوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم اس نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صحافی کو ہلاک کر دیں گے۔