Monday, 18 June, 2007, 03:47 GMT 08:47 PST
فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی دائیں بازو کی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں آسانی سے فتح حاصل کر لی ہے۔
تاہم ان کی یوایم پی جماعت کو وہ بھاری اکثریت نہیں ملی جس کی انتخابات کے دوسرے دور میں توقع کی جا رہی تھی۔
یو ایم پی نے 577 نشتوں کی اسمبلی میں 314 نشتیں حاصل کی ہیں جبکہ سوشلسٹوں کو 185 نشتیں ملی ہیں۔
پیرس میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین وائٹ کے مطابق یہ سرکوزی کی جماعت کے لیے ایک چھوٹا سے دھچکہ ہے۔
تاہم یو ایم پی کے لیے بڑا دھچکہ سابق وزیرِ اعظم الین جوپ کی شکست ہے جنہیں سرکوزی کے منتخب ہونے کے بعد نئی کابینہ میں توانائی اور ماحولیات کا وزیر بنایا گیا تھا۔
جوپ نے کہا ہے کہ وہ اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ سرکوزی نے اس سے قبل کہا تھا کہ جو وزیر بھی منتخب ہونے میں ناکام رہا اسے حکومتی عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔
![]() | |
| سیگولین روئل نے اپنے پارٹنر سے علیحدہ ہونے کی بات کی ہے |
صدر سرکوزی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹیوں کو زیادہ اختیارات دیں گے، بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں رکھیں گے، امیگریشن کو مزید سخت کریں گے، لیبر کے قوانین کو لچکدار بنائیں گے اور ٹیکسوں میں کمی کریں گے۔
دوسری طرف سوشلسٹوں کے رہنما فرینکو ہالینڈ نے کہا ہے کہ نتائج ملک کے لیے اچھے ہیں۔
’نیلے رنگ کی لہر کی جو توقع کی جا رہی تھی وہ نہیں آئی۔ نئی اسمبلی میں تنوع اور شراکت کی گنجائش ہو گی۔‘
تاہم ہماری نامہ نگار کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ پیر کو گفتگو کا موضوع صدارت کی ناکام امیدوار سیگولین روئل کا وہ اعلان رہے گا جس میں انہوں نے سوشلسٹ جماعت کے رہنما اور اپنے پارٹنر یعنی ساتھی فرینکو ہالینڈ سے الگ ہونے کا کہا ہے۔
انہوں نے اپنی ایک کتاب میں، جو اس ہفتے چھپے گی، کہا ہے کہ ان کے ساتھی کا کسی اور سے معاشقہ چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے فرینکو ہالینڈ سے کہا ہے کہ ہمارا گھر خالی کر دیں اور اپنے پیار کے حصول کے لیے لگے رہیں جو کہ اب کتابوں اور اخبارات کی زینت بن چکا ہے۔ میں ان کے لیے سدا خوش رہنے کی دعا کرتی ہوں۔‘
سیگولین روئل اور فرینکو ہالینڈ کا جوڑا گزشتہ 25 سال سے زائد عرصے سے ساتھ تھا اور ان کے چار بچے ہیں۔
سیگولین روئل نے کہا کہ وہ پارٹی کی صدارت کے لیے بھی فرینکو ہالینڈ کو چیلنج کریں گی۔