http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 18 June, 2007, 23:13 GMT 04:13 PST

جونسٹن کی رہائی پیر تک کی مہلت

فلسطینی شدیت پسند تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اُس نے غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جونسٹن کے اغواء کاروں کو پیر تک کی مہلت دے دی ہے۔

حماس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر ایلن جونسٹن کو سوموار تک رہا نہ کیا گیا تو پھر فلسطینی حکومت کو ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا۔

گزشتہ جمعہ کو حماس نے کہا تھا کہ وہ ایلن جونسٹن کے اغواء کاروں سے رابطے میں ہے اور ان کو رہا کر دیا جائے گا۔

ایلن جونسٹن کو آرمی آف اسلام نامی ایک تنظیم نے اس سال مارچ میں غزہ سے اغواء کر لیا تھا۔

حماس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ محمود زحار نے بی بی سی عربی سروس کو بتایا کہ ایلن جونسٹن کے بارے میں اغواء کاروں سے بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اغواء کاروں کو پیر تک کی مہلت دی گئی۔ انہوں نے کہا اغواء کاروں سے رابط کیا جائے اور اگر پیر تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پھر موجودہ حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

برطانوی خبر رساں اداراے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایل جونسٹن کو رہا نہ کیا گیا تو پھر اس کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنا پڑے گا۔

حماس جس نے گزشتہ ہفتے غزہ سے فلسطینی گروہ الفتح کے حامیوں کو نکال دیا تھا کہا ہے کہ ایلن جونسٹن کا مہمانوں کی طرح خیال رکھا جائے۔

آرمی آف اسلام نامی گروہ نے ایلن جونسٹن کو ہلاک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کچھ قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن میں برطانیہ میں قید فلسطینی مذہبی پیشواء ابو قتادہ بھی شامل ہیں۔

تاہم غزہ میں ایلن جونسٹن کے مبینہ اغوا کاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کا صحافی کی رہائی کے لیے حماس سے کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔

الجزیرہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک ویڈیو میں ایک نقاب پوش بندوق بردار نے اپنا تعلق ’آرمی آف اسلام‘ سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حماس سے ملاقاتوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔

تاہم اس نے پھر بھی کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صحافی کو ہلاک کر دیں گے۔