http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 19 June, 2007, 00:08 GMT 05:08 PST

تین روزہ لڑائی میں سو افراد ہلاک

افغانستان کے جنوب کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں جاری شدید لڑائی میں گزشتہ تین دنوں میں شہریوں سمیت سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کابل میں بس پر حملہ

ارزگان صوبے میں صوبائی کونسل کے سربراہ مولوی حمداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق چوراہ ضلع میں افغان اور نیٹو فوجوں کی طالبان کے ساتھ لڑائی میں ساٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم پولیس کے ایک مقامی اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے شہریوں اور فوجیوں کی تعداد بہت کم ہے۔

حمد اللہ نے کہا کہ انہوں نے صدر حامد کرزئی سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے میں ہیلی کاپٹر روانہ کریں تاکہ وہاں سے زخمیوں کا نکالا جا سکے۔

دریں اثناء مشرقی صوبے پکتیتا کے گورنر نے کہا ہے کہ اتحادی فوجیوں نےافغان حکام سے رابطہ نہیں کیا جس وجہ سے اتوار کی رات کو کیئے جانے والے فضائی حملے میں سات بچے بھی ہلاک ہو گئے۔

پکتیکا صوبے میں اتوار کی رات کو نیٹو افواج نے فضائی حملے ایک عمارت کو نشانہ بنایا جس میں کئی طالبان اور سات بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

نیٹو فوجی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

اس عمارت کے بارے میں خیال ہے کہ اس میں القاعدہ کے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کا تعلق اس مدرسے یا مذہبی سکول سے تھا جو اس عمارت میں قائم تھا جس پر حملہ کیا گیا۔

غیر ملکی افواج کی ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ صدر حامد کرزئی نے اتحادی اور نیٹو کی افواج سے بار بار کہا ہے کہ وہ کوشش کریں کہ ان حملوں کا نشانہ عام شہری نہ بنیں۔