Sunday, 17 June, 2007, 01:16 GMT 06:16 PST
امریکہ نے کہا ہے کہ جب حماس کے بغیر نئی ہنگامی حکومت حلف اٹھائے گی تو وہ فلسطین کی امداد پر پندرہ ماہ سے عائد تمام پابندیاں اٹھا لیں گے۔
یروشلم میں امریکی کونسل جنرل جیکب ویلس نے کہا کہ نئی فلسطینی حکومت کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی اور اس کے ساتھ بات کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطین پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
امریکی کونسل جنرل ویلس نے سنیچر کو صدر عباس سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ امداد کی بحالی سے متعلق واشنگٹن سے اگلے ہفتے کے آغاز میں اعلان ہو جائے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے امریکہ، روس، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے حماس کی حکومت کو برخاست کرنے کے صدر عباس کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔
سن 2006 میں حماس کے انتخابات جیتنے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطین پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
توقع ہے کہ فلسطین کے صدر اور فتح گروپ کے رہنما محمود عباس نئے وزیرِ اعظم سے اتوار کے روز حلف لیں گے۔
سنیچر کو حماس اور فتح کے درمیان جاری تشدد غزہ سے نکل کر غربِ اردن تک پھیل گیا اور فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے سینکڑوں جنگجوؤں نے غرب اردن کے علاقے رملہ میں واقع پارلیمان سمیت حماس کے زیرکنٹرول اداروں پر دھاوا بول دیا۔
اطلاعات کے مطابق سنیچر کو جنگجوؤں نے رملہ میں فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر حسن خریشاہ کو اغواء کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔
حسن خریشاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انہوں نے الفتح کے بندوق برداروں کو پارلیمان کی عمارت میں الفتح کا جھنڈا بلند کرنے سے روکا تو انہیں مارا پیٹا گیا۔
حماس کے تقریباً سبھی سیاستدان اور سرکردہ حامی یا تو رملہ چھوڑ چکے ہیں یا وہیں روپوش ہو چکے ہیں۔
الفتح کے جنگجوؤں نے نابلس میں واقع حماس کے زیر کنٹرول کونسل پر بھی دھاوا بول دیا۔
دوسری طرح سینکڑوں کی تعداد میں الفتح کے حمایتی زمینی اور سمندری راستوں سے غزہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
غزہ اور غربِ اردن کے درمیان 45 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔