Sunday, 17 June, 2007, 06:45 GMT 11:45 PST
کابل میں پولیس اہلکاروں سے بھری بس میں خود کش حملے میں کم سے کم پینتیس افراد ہلاک اور بیس سے زائد خمی ہوئے ہیں۔ سینیئر پولیس افسر علی شاہ پکتیاوال نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
ایک عینی شاہد محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ شہر کے وسط میں واقع پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں خاصی گہما گہمی تھی۔
جائے وقوعہ کے قریب وزارت داخلے کے دفاتر بھی ہیں اور اس جانب جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔
گزشتہ تین برسوں میں اس قسم کے پانچ دھماکے ہو چکے ہیں اور شاید طالبان حکومت کے ہٹائے جانے کے بعد سے یہ دھماکہ مہلک ترین ہے۔
پولیس کے نائب سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس انسٹرکٹرز سے بھری بس میں سوار ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار جان سمسن کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دھماکے آپ ہر روز بغداد کی سڑکوں پر دیکھتے ہیں لیکن کابل کی سڑکوں پر پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔
دھماکے میں نہ صرف بس مکمل طور پر تباہ ہو ئی ہے بلکہ اس کے آس پاس کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے خدشہ ہے کہ کئی راہگیر بھی زخمی ہوئے ہیں۔
عالمی امور کے نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ خود کش حملوں کی طرح افغانستان میں پولیس اہلکاروں یا فوجیوں کی بسوں پر حملوں کی یہ نئی روایات بالکل عراق میں مزاحمت کاروں کے حملوں کی طرز پر ہے۔ ’ایسا لگتا ہے کہ بغداد کابل آ گیا ہے۔‘
افغان ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اتوار کے روز پولیس اکیڈمی میں جرمنی کے ماہرین نے تربیت کی ذمہ داری یورپی یونین کے اہلکاروں کے سپرد کرنا تھی۔
سنیچر کی صبح عین اس وقت جب بس دھماکہ ہوا کابل شہر میں ایک دھماکہ بھی ہوا جس میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوئے ۔
اس کے علاوہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ملک کے شمال و جنوب بھی خود کش حملے ہوئے ہیں۔