Sunday, 17 June, 2007, 20:06 GMT 01:06 PST
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جونسٹن کے مبینہ اغوا کاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کا صحافی کی رہائی کی لیے حماس سے کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک ویڈیو میں ایک نقاب پوش بندوق بردار نے اپنا تعلق ’آرمی آف اسلام‘ سے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حماس سے ملاقاتوں میں پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم اس نے پھر بھی کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ صحافی کو ہلاک کر دیں گے۔
بی بی سی نے کہا ہے کہ وہ ویڈیو سے باخبر ہے اور پیش رفت کو نزدیک سے دیکھ رہا ہے۔
ایلن جونسٹن کو بارہ مارچ کو غزہ شہر سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ واپس گھر جا رہے تھے۔
اس کے بعد پہلی جون کو آرمی آف اسلام کے شدت پسندوں نے انٹرنیٹ پر بھیجی جانے والی ایک ویڈیو میں جونسٹن کو دکھایا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔
سترہ جون کو دکھائی جانے والی ویڈیو میں نقاب پوش ترجمان نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جن میں فلسطینی نژاد ابو قتادہ بھی شامل ہیں جو برطانیہ میں قید ہیں۔
نقاب پوش نے کہا: ’اگر وہ یہ مطالبات تسلیم نہیں کرتے تو پھر کوئی رہائی نہیں ہو گی، لیکن اگر حالات بگڑ گئے تو ہم اس صحافی کو قتل کر کے خدا کے اور قریب ہو جائیں گے۔‘
یہ ویڈیو حماس کے اس بیان کے چند گھنٹوں کے بعد دکھایا گیا جس میں حماس نے کہا تھا کہ جونسٹن کو جلد ہی چھوڑ دیا جائے گا۔