http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 17 June, 2007, 02:18 GMT 07:18 PST

’حماس۔فری‘ کابینہ اسرائیل کو منظور

اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ فلسطین میں حماس کے بغیر نئی حکومت بننے سے امن کے فروغ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

امریکہ امداد بحال کر دے گا
غزہ حماس کے کنٹرول میں
غزہ میں تشد، آپ کی رائے؟
فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟
غزہ میں خونریز لڑائی

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس طرح کی کابینہ کو ’پارٹنر‘ سمجھے گا اور حماس کے باہر رہنے سے مواقع بڑھ گئے ہیں۔

سنیچر کو مذاکرات کے لیے امریکہ جانے سے قبل انہوں نے کہا کہ حالیہ تبدیلیوں نے صورتِ حال واضح کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی کابینہ نے وہ موقع فراہم کیا ہے جو کئی عرصے سے موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جو فلسطینی حکومت حماس کی حکومت نہیں ہے وہ پارٹنر ہے اور ہم اس سے تعاون کریں گے۔

اس سے قبل یروشلم میں امریکی کونسل جنرل جیکب ویلس نے کہا تھا کہ جب حماس کے بغیر نئی ہنگامی حکومت حلف اٹھائے گی تو وہ فلسطین کی امداد پر پندرہ ماہ سے عائد تمام پابندیاں اٹھا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئی فلسطینی حکومت کو مکمل امریکی حمایت حاصل ہوگی اور اس کے ساتھ بات کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔ فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے فلسطین پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔