http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 15 June, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST

سلام فیاض نئے فلسطینی وزیراعظم

فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کی مخلوط حکومت برخاست کرنے کے ایک روز بعد سابق وزیر خزانہ سلام فیاض کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا ہے۔

دریں اثناء امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

صدر محمود عباس نے سلام فیاض کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا چارج لے کر ایمرجنسی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر کی طرف سے یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب چھ روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد حماس نے محمود عباس کی حمایتی تنظیم الفتح کو شکست دے کر غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ غزہ شہر میں واقع صدارتی کمپاؤنڈ پر بھی حماس نے قبضہ کر لیا ہے۔ حماس اور فتح کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں لگ بھگ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

غزہ حماس کے کنٹرول میں
غزہ میں تشد، آپ کی رائے؟
فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟
غزہ میں خونریز لڑائی

جمعرات کی رات غزہ کے زیادہ تر حصوں میں حماس کے سبز پرچم لہرا دیے گئے تھے اور حماس کے حامی شہر کی گلیوں میں فتح کا جشن منا رہے تھے۔ اس سے قبل حماس کے جنگجو صدارتی کمپاؤنڈ اور سکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر سمیت الفتح کی دیگر بڑی عمارتوں پر قبضہ کر چکے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ الفتح کے کارکنوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد ہانک کر لے جایا جا رہا تھا۔
غزہ میں لڑائی
حماس نے غزہ کے جنوب میں واقع الفتح کا صدر دفتر تباہ کر دیا

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ حماس کی حکومت کی برخاستگی کے بعد غرب اردن اور غزہ کی پٹی عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔ غزہ کے معاملات حماس کے ہاتھ میں ہوں گے جبکہ غرب اردن الفتح کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

لیکن اسماعیل ہنیہ نے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’ غزہ کی پٹی وطن کا وہ حصہ ہے جسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور یہاں کے رہائشی فلسطینی عوام کا ضروری جزو ہیں۔‘ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ امن و امان سے متعلق قانونی اور یقینی اقدامات کریں گے۔

لیکن دوسری جانب محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ غرب اردن اور غزہ پر صدارتی حکم کے تحت حکومت کرتے رہیں گے۔ کچھ لوگوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اب پرتشدد کارروائیاں غرب اردن میں بھی شروع ہو سکتی ہیں جہاں الفتح کا کنٹرول ہے۔

الفتح سے منسلک الاقصیٰ بریگیڈ نے ’مارشل لاء‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر جگہ الفتح کے لوگ تعینات کیے جائیں۔ گروپ کے ترجمان نے اپنے کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیئے کہ وہ ’غرب اردن کے تمام علاقوں میں حماس کو ایک غیر قانونی تنظیم کے طور پر دیکھیں اور اس کی ہر مسلح تحریک پر ہر قیمت پر قابو پائیں۔‘
صدر عباس کا فیصلہ جلد بازی پر مبنی ہے: اسماعیل ہنیہ

ادھر امریکی صدر جارج بش نے غزہ میں پر تشدد کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید فکرمند‘ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر محمود عباس کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ فلسطینی حکومت کی برخاستگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر بندوق بردار انتہا پسندوں نے امن پر مبنی دو ریاستوں کی حامی اکثریت کی خواہشات کے برعکس علاقے میں ترقی اور بہتری کے سفر کو روک دیا ہے۔

یورپی یونین نے صدر محمود عباس کو حقیقی فلسطینی رہنما قرار دیا ہے۔ صدر عباس کا غرب اردن میں کنٹرول ہے جبکہ غزہ میں حماس کا قبضہ ہے۔ ادھر عرب لیگ کا قاہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس ہورہا ہے۔