http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 15 June, 2007, 13:49 GMT 18:49 PST

بالی بم دھماکے: مبینہ سرغنہ گرفتار

پولیس نے بالی میں 2002 میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث گروہ جمعیہ اسلامیہ کے سربراہ کو گرفتار کیا ہے۔

انڈونیشیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے شخص کا نام زرکاسیہ ہے لیکن اسے مباہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

انڈونیشیا: شدت پسند لیڈر گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے اسلامی شدت پسند گروہ جمعیہ اسلامیہ کے ایک اور مبینہ لیڈر ابو دجانہ کو بھی حراست میں لے چکی ہے۔

جمعیہ اسلامیہ پر بالی کے دھماکوں میں ملوث ہونے کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا میں اور بہت سی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے، جن میں 2004 میں جکارتہ میں آسٹریلیا کے سفارتخانے پر حملہ اور اس سے ایک سال پہلے جکارتہ میں میریٹ ہوٹل کے باہر ایک گاڑی میں کیا جانے والا دھماکا بھی شامل ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ابودجانہ اور اس کے بعد زرکاسیہ کی گرفتاری اگرچہ تنظیم کے لیے دہرا دھچکا ہے لیکن اس کے باوجود اس کا تنظیمی ڈھانچہ اور نئے لوگوں کو شامل کرنے کا نٹ ورک اپنی جگہ برقرار ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زرکاسیہ عرف مباہ کو جاوا کے یوگیاکارتا نامی علاقے میں سنیچر کو مارے جانے والے ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا اور جزیرہ جاوا میں بولی جانے والی زبان میں زرکاسیہ عرف مباہ کے معنی دادا یعنی والد کے والد کے ہوتے ہیں۔
ابودجانا
پولیس بدھ کو سنیتیس سالہ ابودجانہ کی گرفتاری کی تصدیق کر چکی ہے

انہیں سینتیس سالہ ابو دجانہ اور ان کے ساتھ گرفتار کیے جانے والے لوگوں کے ساتھ بھی کچھ گھنٹے کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس بدھ کو ابودجانہ کی گرفتاری کی تصدیق کر چکی ہے۔

پولیس نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران ایسے ویڈیو بھی پیش کیے جن میں گرفتار کیے جانے والے دونوں افراد کو اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اسی نیوز کانفرنس میں پولیس نے ان کے نام کی تصحیح بھی کی پہلے یہ نام زرکارسیہ بتایا گیا تھا جو کہ پولیس کے مطابق اصل میں زرکاسیہ ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے تجزیوں سے ہو چکی ہے۔