Friday, 15 June, 2007, 23:35 GMT 04:35 PST
فلسطین کی اسلامی تحریک حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں لاپتہ ہونے والے بی بی سی کے رپورٹر ایلن جونسٹن کی بازیابی کے لیے ’عملی اقدامات‘ کر رہی ہے۔
حماس نے غزہ میں خونریز لڑائی میں کامیابی کے بعد کہا کہ اس نے ایلن جونٹسن کو اغوا کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انہیں رہا کر دیں۔
تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ تین ماہ قبل اغوا ہونے والے ایلن جونسٹن فلسطین کے مہمان تھے اور ان کو خوش آمدید کہا جانا چاہیئے تھا۔
بی بی سی کے رپورٹر کو مارچ میں ’دی آرمی آف اسلام‘ نامی تنظیم نے اغوا کیا تھا۔
پہلی جون کو جونسٹن کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کی گئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک برتا جا رہا ہے۔
پینتالیس سالہ ایلن جونسٹن واحد مغربی صحافی تھے جو غزہ میں مستقل طور پر مقیم تھے۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون سازوں نے ان کی رہائی کے لیے اپیل کی ہے۔
ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد آن لائن پر ان کی رہائی کے لیے موجود پیٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔
حماس کے ترجمان ابو اوبیدہ نے کہا کہ ان کی تنظیم اب صحافی (ایلن) کو حراست میں رہنے نہیں دے گی اور وہ جونسٹن کو اغوا کرنے والوں سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ’ہم نے ان کے اغوا کاروں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ انہیں فوراً رہا کر دیں۔ ہم نے انہیں رہا نہ کرنے پر وارننگ دی ہے۔‘