Friday, 15 June, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
افغانستان میں نیٹو افواج کے ایک دستے پر کیے جانے والے خودکش حملے میں کم سے کم چھ بچے ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔
افغان پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی کو صوبہ ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں نیٹو کے ایک دستے سے ٹکرا دیا۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں نیٹو افواج کی ایک گاڑی تباہ ہوئی۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ خودکش حملہ ترین کوٹ کے ایک رہائشی علاقے میں ہوا جہاں سے نیٹو کی گاڑیاں گزر رہی تھیں۔
ادھر رائٹرز نے صوبائی حکومت کے اہلکار محمد نبی کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حملے میں تین سویلین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق حملے کے وقت بچے کھیل رہے تھے جو اس کی زد میں آگئے
دریں اثناء امریکی افواج نے بتایا ہے کہ جنوبی افغانستان میں انہوں نے کم سے کم چوبیس طالبان کو کئی کارروائیوں میں ہلاک کردیا ہے۔
اتحادی افواج کے ایک بیان کے مطابق جمعہ کو ملک کے شمال میں ہونے والی ایک مسلح جھڑپ میں ان کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کا جنوب طالبان مزاحمت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور وہاں لگ بھگ روز ہی افغان اور غیرملکی افواج پر حملے ہوتے ہیں۔ اس طرح کی لڑائیوں میں سویلین بھی پھنس جاتے ہیں۔
برسلز میں مذاکرات
اسی دوران برسلز میں نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع جمعہ کے روز ملاقات کررہے ہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر افغانستان میں ہونے والی سویلین ہلاکتوں پر غور کیا ہے۔
بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو کے وزرائے دفاع سویلین ہلاکتوں کے بارے میں فکرمند ہیں تاہم وہ فوجی لائحۂ عمل میں کوئی اہم تبدیلی نہیں کرنے والے ہیں۔
اس سال اب تک لگ بھگ 2000 افغان مارے گئے ہیں جن میں سویلین، فوجی اور مزاحمت کار شامل ہیں۔
نیٹو کے وزرائے دفاع نے کہا ہے کہ وہ نیٹو، امریکی اور افغان فورسز کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کرینگے۔ تاہم انہوں نے سویلین ہلاکتوں کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔