http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 15 June, 2007, 01:25 GMT 06:25 PST

حماس حکومت برطرف

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے حماس کی مخلوط حکومت کو برطرف کر دیا ہے اور ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

صدر محمود عباس کے قریبی ذرائع کے مطابق حماس اور الفتح کے درمیان جاری لڑائی کو ختم کرانے کی غرض سے صدر جلد ہی نئے انتخابات کا اعلان کریں گے۔

غزہ میں خونریز لڑائی

اس اعلان کے بعد محمود عباس غرب اردن اور غزہ پر صدارتی حکم کے تحت حکومت کرتے رہیں گے۔

حماس سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعظم ہنیہ نے کہا ہے کہ صدر عباس کا فیصلہ جلد بازی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کے باوجود مخلوط حکومت کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

حماس نے کہا ہے کہ غزہ پوری طرح ان کے قبضے میں ہے اور انہوں نے صدارتی کمپاؤنڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

حماس حکومت کی برطرفی سے قبل ہی حماس کے کارکن غزہ کی پٹی اور خاص طور پر غزہ شہر میں سکیورٹی اداروں کی عمارتوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور ان پر حماس کے پرچم لہرا دیے گئے تھے۔

فتح اور حماس کے درمیان جاری لڑائی میں گزشتہ ایک ہفتے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمو عباس کے مشیروں نے بتایا ہے کہ صدر نے فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کو برطرف کر دیا ہے اور وہ ایک غیر جانبدار شخص کو وزیر اعظم مقرر کریں گے۔

امریکہ کی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر عباس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے قانونی اختیارات استعمال کیے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم فلسطینی عوام کو درپیش بحران کے خاتمے اور ان کو امن اور بہتر مستقبل کی طرف واپس جانے کا مواقع دینے کے لیے ان (صدر) کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو پرائس کا کہنا ہے کہ صدارتی حکمنامے پر دستخط ہوتے ہی غرب اردن اور غزہ کی پٹی عملی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے اور غزہ کے معاملات حماس کے ہاتھ میں ہوں گے جبکہ غرب اردن الفتح کے کنٹرول میں آ جائے گا۔

صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں یہ اقدام ’غزہ کی پٹی میں مجرمانہ جنگ‘ اور ’قانون شکنوں کی طرح سے مسلح بغاوت‘ کی وجہ سے اٹھانا پڑا۔