Tuesday, 12 June, 2007, 13:07 GMT 18:07 PST
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام اور لبنان کے درمیان غیر قانونی اسلحہ کی سمگلنگ کے نئے شواہد سامنے آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مقامی نمائندے روئڈ لارسن نے کہا کہ اس قسم کے حالات لبنان کو مستحکم ملک بنانے کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔
گزشتہ برس موسم گرما میں لبنان میں ہونے والے چونتیس دن کے تنازعے کو ختم کروانے والی اقوام متحدہ کی قرارداد میں شامل قوائد کے مطابق لبنان میں موجود فتح الاسلام جیسے فلسطینی جنگجوگروہوں اور شیعہ تنظیم حزب اللہ جیسے تمام مسلح گروپوں کو غیر مسلح ہونا تھا۔
سلامتی کونسل نے اس بات پرافسوس کا اظہار کیا ہے کہ لبنانی اور غیر لبنانی جیسا کہ فلسطینی گروہوں کو اب تک غیر مسلح نہیں کیا جا سکا ہے۔
روئڈ لارسن اس سے قبل مشرق وسطٰی کے لیے اقوام متحدہ کے سینیئر ایلچی تھے لیکن اب ان کی ذمہ داریوں میں خاص طور پر لبنان اور شام شامل ہیں۔
سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ سرحدی علاقے میں تعینات سکیورٹی کا جائزہ لینے والی ایک ٹیم کی جانب سے نتائج کا انتطار کر رہے ہیں۔
کونسل کو حالات سے آگاہ کرنے کے بعد روئڈ لارسن نے کہا کہ جنگجوؤں اور ہتھیاروں کا لبنان کی سرحد میں داخل ہونے کے واضح شواہد سامنے آنا انتہائی فکر کی بات ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطٰی کی صورت حال بہت تاریک تھی اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ تاریک تر ہوتی جا رہی ہے۔
روئڈ لارسن نے کہا کہ عراق، ایران، شام اور لبنان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور مسائل نے امن کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان تمام ممالک میں ہونے والے تنازعات کا آپس میں ایسا تعلق بن چکا ہے کہ جب تک ان سب کا حل نہیں نکالا جاتا ان میں سے صرف کسی ایک کا حل نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔